بیورو کریسی گڈ گورننس میں رکاوٹ بننا چھوڑ دے، سردار سعید
باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) بیورو کریسی حکومت کی گڈ گورننس میں جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کرنا چھوڑ دے عرصہ 2سال سے کلر یکل کیڈر کی 60سے زائد خالی آسامیوں پر محکمانہ کوٹہ کے تحت سینیارٹی پر ترقیابی کے بجائے نئے اور پرانے رولز کا بہانہ بنانا بند کیا جائے ، ظلم اور ذیادتی برداشت نہیں کی جائیگی ان خیالا ت کا اظہار ایپکا ضلع باغ کے صدر سردار سعید خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہو ں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ میںپہلی بارمحکمہ تعلیم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ، سپرٹنڈنٹس ، ہیڈ کلرکس
، سینئر کلرکس اور جونیئر کلرکس کی سینکڑوں آسامیاں عرصہ2سال سے خالی رکھ اور سینیارٹی پامال کر کے سرکاری امور میں خود رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے،اسی ظلم کا شکار ڈویژنل ڈائریکٹر میرپور محترمہ نجمہ تبسم بھی ہوئی ہیں جو حکومت اور بیوروکریسی کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے ؟حکومت گڈ گورننس کا دعوہ تو کرتی ہے ۔
لیکن محکمہ تعلیم سکولز کی بیورو کریسی کو لگام دینے میں ناکام ہے ، ملازمین کو عدالتوں کے دھکے کھانے اور قبل از وقت ریٹائرڈ منٹ لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے ، ملازمین ترقیابیوں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ آسامیاں
عرصہ 2سال سے خالی پڑی ہیں نئے قواعد نومبر 2017میں نافذ ہوئے جبکہ اس سے قبل بھی ترقیابیاں کرنے کے بجائے آسامیاں خالی رکھی گئی اور آج تک مزید خالی ہو چکی ہیں چنانچہ ملازمین کے ساتھ عوام بھی ایک ایک فائل کے لیے کئی کئی ماہ خوار ہو رہے ہیں اثر و رسوخ رکھنے والے براہ راست اپنا کام نکل وا رہے ہیں جبکہ عام ملازم اور عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی لیکن حکومت اور بیوروکریسی ٹس سے مس نہیں ہو رہی ، انہوںنے کہا کہ ملازمین کے لیے یہ ظلم و ستم اور نا انصافی کی انتہا ہے ،
نئے قواعد اپ گریڈیشن 2016کی روشنی میں بنائے گئے ہیں جن میں کبھی ترمیم اور کبھی تخفیف کا بہانہ کر کے ملازمین کو احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے ،بیوروکریسی اور حکومت کی تمام تر حرکات سے واقف ہیں اگر ایک ماہ کے اندر سینیارٹی مرتب اور ترقیابیاں عمل میں نہ لائی گئی تو سیکرٹریٹ تعلیم سکولز کے سامنے دھرنا دیا جائیگاجس کی ذمہ داری بیورو کریسی اور حکومت پر عائد ہو گی ۔
