عتیق یہودیوں کا یار خاص ہے،پیپلز پارٹی نے ختم نبوت بل کی حمایت نہیں کی،فاروق حیدر

مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ختم نبوت بل کی حمایت نہیں کی۔سردار عتیق خان یہودیوں کا یار خاص ہے اسے مسلم کانفرنس کی تاریخ تک نہیں پتہ،قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترامیم کی حمایت میں پیپلز پارٹی غیر حاضررہی ۔پانچ فروری جائنٹ سیشن میں چوہدری مجید نے ختم نبوت بل کو ''یہ وہ'' کہا اور 6فروری کو ایوان میں نہیں آئے ۔زرداری ملک سب سے بڑا ناسور ہے ۔آئینی ترامیم آزاد کشمیر عبوری ایکٹ 1974ء میں کی گئیں ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ جب اقلیتوں کے حوالہ نشستوں پر قانون سازی ہو کیونکہ کشمیر کا فیصلہ ہونا ہے ۔پیپلز پارٹی کا دعویٰ بالکل جھوٹ ہے کہ اس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تاشقند شملہ آپریشن جبرالٹر سے مسئلہ کشمیر کو نقصان ضرور پہنچایا ۔بلدیاتی انتخابات آٹھ دس روز میں نہیں ہو سکتے یہ آٹھ نو مہینوں کا وقت درکار ہے ۔فہرستوں سمیت بہت سارا کام کرنا ہے ۔احتساب بیورو کو مضبوط ادارہ بنانے کیلئے رولز بنائے معاملہ ہائیکورٹ چلا گیا ۔جناح ٹائون میں کس کس نے کھایا ریفرنس میرے پاس آیا تھا ہم سب سے اوپر والے کو پکڑنا چاہتے ہیں ۔آزادکشمیر کے آئین میں مجوزہ ترامیمی مسودہ کی منظوری کیلئے حکومت پاکستان کے ساتھ جلد ہی بات چیت ہوگی اور یہ ترامیم انشاء اللہ ضرور ہونگی ۔پراپرٹی ٹیکس سابقہ حکومت نے فنانس بل میں لایا اب اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے وزیر سپورٹس چوہدری سعید کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزرائے حکومت چوہدری محمد عزیز ،چوہدری محمد سعید ایم ایل اے ،چوہدری محمد شہزاد کے ہمراہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ جوائنٹ سیشن میں اپوزیشن کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا ۔جس طرح انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی موجودگی میں جو کردار ادا کیا ہم بھی اپوزیشن میں رہے یہاں زرداری بھی آئے اور دوسرے زعماء بھی ۔ہم نے کبھی ایسے کردار کا مظاہرہ نہیں کیا ۔یہ دن انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ایک ادھارا اپوزیشن لیڈر ممبران اسمبلی کا مذاق اُڑائے جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔اگر پانچ فروری کا دن نہ ہوتا تو پھر ہم بھی دیکھ لیتے اور سب کو پتہ چل جاتا ۔اپوزیشن لیڈر نے پارلیمانی روایت کی دھجیاں اُڑائیں ۔انہوں نے کہا کہ موچی گیٹ میں نواز شریف کے متعلق جو جھوٹ بولا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنی تقرریوں میں تسلسل کے ساتھ کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم اور مجاہدین کا ذکر کیا ۔زرداری نے انتہائی لغو زبان استعمال کی ۔میں نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستانی قیادت کے بارے میں بات نہیں کروں گامگر زرداری ناسور ہے جس نے پارٹی سمیت سب کو تباہ کیا اور یہ بات بھی بالکل جھوٹ ہے کہ پی پی کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی میں یہ پوچھتا ہوں کہ ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ کس نے لگایا تھا ۔ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کا کس نے کہا تھا اور ایوب نے محترمہ فاطمہ جناح کو انڈین ایجنٹ کہا ۔اس کا وزیر کون تھا ۔یہ وہی بھٹو تھے جنہوں نے ڈھاکہ میں جنگ چھڑی تو کہا پاکستان بچ گیا یہ بھٹو نے ہی کہا تھا کہ سکندر مرزا آپ یہ کام کریں تو آپ کا نام تاریخ میں قائد اعظم سے پہلے لکھا جائے گا۔شملہ معاہدہ اور آزادکشمیر کا ایکٹ 74کس نے کیا ۔اور یہاں کی حکومت کے اختیارات کس نے ختم کیے ۔یہ سب کو پتہ ہے ۔قادیانیت کے خلاف قرارداد پر مسلم کانفرنس کی حکومت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کس نے کی ۔1975ء میں تاریخ ساز دھاندلی کی گئی ۔ایف ایس ایف کا استعمال کیا گیا ۔بھٹو موسولینی کا شاگرد تھا اور اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو جب وطن واپس آئی تو پنجاب اسمبلی کے سامنے اس نے بھی یہ کہا تھا کہ میں چاہوں تو پنجاب اسمبلی پر قبضہ کر لوں ۔پیپلز پارٹی پیشہ وروں کی جماعت بن چکی۔زرداری وہ ہیں جنہوں نے اسلام آباد نے محبوبہ مفتی کو ریڈ کارپٹ آنر دیا ۔ان کو کشمیریوں کے جذبات سے کھیلنا آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمود اور دیگر کو اسمبلیوں سے گھسیٹنے والے بھی سب کو یاد ہیں ہماری یاداشت بھی اتنی کمزور نہیں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو اعزاز حاصل ہے کہ یہاں شریعہ اپیلنٹ بینچ کا قیام عمل میں لایا اور جلد ہی اس میں عالم کی تعیناتی ہوگی ۔ختم نبوت بل کی منظوری کے موقع پر پیپلز پارٹی کا کوئی ایم ایل اے حاضر نہیں تھا انہیں آزادکشمیر کے عوام پوچھیں کہ وہ کہاں تھے ۔سردار عتیق ہرروز نیا فلسفہ نکال لیتے ہیں ۔مجھے یہ بتایا جائے کہ آزادکشمیر کے عبوری آئینی ایکٹ میں صرف آزادکشمیر کا ساڑھے چار ہزار مربع میل رقبہ آتا ہے اس سے مسئلہ کشمیر پر کیا برا اثر پڑے گا۔سردار عتیق کو تو مسلم کانفرنس کی تاریخ کا پتہ نہیں اس وقت آزادکشمیر میں کوئی سکھ ہے اور نہ ہی ہندو،سردار عتیق کے یہودیوں سے خصوصی تعلقات ہیں ۔شاہد اس لیے وہ ان کو یاد آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اکلاس کے ملازمین کو دو ارب چالیس کروڑ روپے کا پیکیج دے کر فارغ کرنا پڑے گا۔اس پر ہمارا کام جاری ہے ۔پراپرٹی ٹیکس چوہدری مجید نے اپنی حکومت کے خاتمہ سے پانچ دن قبل لگا کر یہ بات ہماری کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ۔انہوں نے کہا کہ دس دس سال سے جن لوگوں نے سرکاری زمینیں الاٹ کروا رکھی ہیں ان کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور اس پر کارروائی ہوگی ۔مہاجرین کے اعزازیہ میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔
