ترقیاتی منصوبے براہ راست وزیراعظم کی طرف سے جاری ہونے لگے

دھیرکوٹ (راجہ انعام الحق خان)ازادکشمیر میں احتساب کا عمل رک گیا، حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان کے کڑے احتساب کاعمل ہوامیں تحلیل ہوکررہ گیا، احتسابی عمل کے اعلان اور بعد میں رُک جانے کے باعث عوام میں مایوسی پھیلنے لگی، گزشتہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں مختلف سکیموں پر چہیتوںنے عوامی سکیمیں ہضم کیں اورعوام پیسہ کرپشن کی نذرہوگیا ، مسلم لیگ ن کی حکومت میں بھی کچھ ایسے عناصرکو بھی سکیموں سے نوازاجارہاہے جن پرپہلے سے احتساب لازم تھا، حکومت کی طرف سے روایتی اقدامات سے عوام مایوس ہیں ،حلقہ غربی باغ میں مسلم لیگ ن کے نمائندہ کو اس طرح کی سکیموں کا کوئی پتہ نہیں، بعض سکیمیں وزیراعظم کی طرف سے براہ راست کچھ افراد کو دی گئی ہیں جبکہ یہی افراد پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران سکیمیں ہڑپ کرچکے ہیں،اس طرح کے اقدامات سے ن لیگی کارکنان کو ٹھیس پہنچ رہی ہے اور عوامی منصوبوں کو ان ہاتھوں میں دیکھ رہے ہیں جو پہلے بھی ہاتھ صاف کرچکے ہیں، مسلم لیگ ن کی حکومت کو چاہیے کہ حلقہ غربی باغ میں ترقیاتی سکیمیں حلقہ کے نمائندہ کی مشاورت کے بعد  جاری کریں تاکہ حکومتی ساکھ متاثرہ ہونے سے بچ سکے۔ حکومت باالخصوص وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان براہ راست ایسے لوگوں کو سکیمیں جار ی کریںگے تو ترقیاتی عمل کیسے ممکن ہوگاا ور احتساب کس طرح ممکن ہے؟  بعض لوگ صرف سکیموں پر ہی پلتے ہیں اور ان لوگوں کو اگر سکیمیں دی جائیںگی تو حکومت کاترقیاتی ویژن کیسے اگے بڑ سکتاہے۔ازادکشمیرمیں احتسابی عمل کے دعوئوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے دوٹوک پالیسی بنائی جائے اورحکومتی نمائندے ٹکٹ ہولڈر کو ہی اہمیت دی جائے۔