گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے رہیں گے،حریت کانفرنس

اسلام آباد(وقائع نگار)حریت کانفرنس کے کنونئیر غلام محمد صفی اور لبریشن فرنٹ کے وائس چئیر مین سلیم ہارون نے کہا ہے کہ گزشتہ روز ایک اخبار میں حریت کانفرنس کے ترجمان کا بیان ''جس میں انہوں نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی حمایت کی ہے '' درست نہیں ہے نہ ہی یہ حریت کانفرنس کی پالیسی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس پاکستان شاخ کے کنونئیر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ ہم پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور الحاق پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ریاست کے کسی ایک خطے کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس سے منسوب یہ بات غلط ہے کہ حریت کانفرنس نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی حمایت کی ہے کشمیر ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے غلام محمد صفی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد جاری ہے نہتے شہری مارے جا رہے ہیں آزادی پسند قیادت پوری ریاست کے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے ترجمان عبدالحمید لون کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی حمایت کی ہے کیا حریت کانفرنس نے اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے؟ غلام محمد صفی نے کہا کہ حریت پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہم سمجھتے ہیں کہ پوری ریاست پاکستان کا حصہ بنے جو بیان شائع ہوا ہے وہ درست نہیں ہے اور نہ ہی حریت کانفرنس کی پالیسی ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے وائس چئیر مین سلیم ہارون کا کہنا ہے کہ یہ لبریشن فرنٹ کی پالیسی نہیں ہے۔ لبریشن فرنٹ ریاست کی وحدت پر یقین رکھتی ہے اور ایسی کسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی جو تقسیم کشمیر کی طرف جاتی ہو۔ گلگت بلتستان کے حقوق کے مخالف نہیں لیکن صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے رہیں گے۔اس کیلئے یاسین ملک اور سید علی گیلانی نے بھی وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھے تھے۔
