جماعت اسلامی کو کسی کی کردار کشی کا کوئی حق نہیں، سردار ابرار

باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) جماعت اسلامی باغ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ کسی کی کردار کشی کرے ۔ وہ اپنی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے  پولیس کے اعلیٰ افیسران کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں ان کو اپنی حلقے کے اندر پوزیشن کا پتہ چل جائے گا ۔ پروفیسر انور کے قاتل کو گرفتار کرنے کے بجائے غریب بے سہارا لوگوں پر تشدد کیا گیا ۔ جن لوگوں کے خلاف ایف ائی ار ہوئی تھی وہ اور مقتول پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے ہیں اور ابتدائی جو جھگڑا ہاڑی گہل بازار میں ہوا وہ پوری ٹیم مقتول کے ساتھ ہے ۔ بلا وجہ سردار موسٰی خان اینڈ برادران پر الزام ڈال رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سر دار ابرار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے خلاف ایف ائی ار ہوئی ہے ۔ وہ لوگ اپس میں ایک ہیں کیا ابتدائی جھگڑا کن لوگوں کے ساتھ ہوا ؟   کیا ان کا راضی نامہ کروانے میں جماعت اسلامی کا کردار ہے ؟ کیا ایسی کون سی قوت ہے کہ صرف ایف ائی ار سے ہٹ کر لوگوں پر تشدد کر وا رہی ہے ؟ ہم پروفیسر انور کے قتل کے خلاف ہیں اور رہیں گے قاتل فوری گرفتا ر ہونا چاہیے لیکن ساز باز کرنے سے باز رہیں کچھ لوگ اپنی جماعتوں کو سہارا دینے کے لیے اپنے قبیلوں کو استعمال کر رہے ہیں اور اس قتل کو بھی جماعت اسلامی قبیلے کا رنگ دے رہی ہے ۔  انھوں نے کہا ہے کہ اصل حقائق سامنے انے چاہیں سازشی ٹولہ بے نقاب ہونا چاہیے ۔قاتل گرفتار ہونا چاہیے ۔ بلا وجہ تشدد کے شکار ہونے والو ں کو انصاف ملنا چاہیے اور امیدہے کہ یہ انصاف عدالت ہی سے ملے گا ۔ ایسے انسپکٹر جنہوں نے بلاوجہ تشدد کیا چشمدید گواہ بنائے اور مقدمے کو دوسرا رخ دینے کی کوشش کی گئی ان پولیس انسپکٹر اور جے ائی ٹی کے اعلیٰ ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔  وزیر اعظم ازاد کشمیر ، ائی جی ازاد کشمیر ، چیف سیکرٹری ازاد کشمیر فوری نوٹس لے کر تشدد کا شکار ہونے والے افراد کو انصاف دلانے میں کردار ادا کریں۔