کشمیر کونسل کا متبادل بندوبست ضروری ہے،طارق فاروق

 مظفرآباد (وقائع نگار)آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیر و مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر چوہدری طارق فاروق نے کہا ہیکہ انتظامی اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ تیار مگرابہام موجود ہے کچھ اصلاحات میں لیڈر' کچھ میںبیوروکریسی رکاوٹ ہے کشمیر کونسل کے خاتمہ کی جانب پیش رفت اہم قدم ہے اس سلسلہ میں وزیراعظم فاروق حیدر کو پارلیمانی پارٹی اور کابینہ کا مکمل اعتماد حاصل ہے ،البتہ اس حوالے سے دیگر تمام جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے ضروری ہے ۔کشمیر کونسل کامتبادل بندوبست ضروری ہے یہ ایک پارٹی نہیں بلکہ ریاست جموں وکشمیر کا معاملہ ہے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے جس طرح یقین دہانی کروائی ہے ان کی پالیسی واضح نظر اتی ہے یقین ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔حکومت کوشش کرے گی کہ مکمل یکجہتی و اتفاق رائے سے یہ معاملہ انجام پذیر ہو، پارلیمانی نظام میں وزیراعظم اختیارات کا مرکز ہوتا ہے ،ازاد کشمیر کا موجودہ انتظامی سیٹ اپ اور عبوری ائین ایکٹ 1974 ء کے تحت پارلیمانی نظام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت حکومت پاکستان کو حاصل اختیارات اور ذمہ داریوں کا نتیجہ ہیں ۔ گزشتہ روز دارالحکومت مظفرآباد کے سینئر صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کے دوران چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ وفاقی وزیرامور کشمیر چوہدری برجیس طاہر کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات اج سے نہیں بہت پرانے ہیں اس حوالے سے سب کو علم ہے ازاد کشمیر کے عبوری ائین ایکٹ 1974 ء میں ترامیم کے تحت حکومت ازاد کشمیر کے اختیارات میں اضافہ کی بات پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں ہوئی تھی جب کشمیر کونسل کی نشستوں میں اضافے کی کوشش کی گئی تو اس وقت کے وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو نے ازاد کشمیر کی جملہ سیاسی قیادت کے ساتھ مشاور ت  کے بعد عبوری ائین ایکٹ 1974 ء میں ترامیم کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس کے سربراہ  پہلے چوہدری لطیف اکبر اور ان کی علالت کے بعد محمد مطلوب انقلابی نے یہ ذمہ داری نبھائی ہم بھی اس کمیٹی میں شامل تھے ،اس کمیٹی نے ازاد کشمیر کی جملہ سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی ، بار ایسوسی ایشن سمیت تمام مکاتب فکر کے ساتھ ملاقاتیں کر کے ان پٹ حاصل کیا، اس حوالے سے کمیٹی کے کئی اجلاس منعقد ہوئے جن میں سیر حاصل بحث کی گئی ہماری اپنی جماعت کے اندر بھی اٹھ اٹھ گھنٹے کی طویل نشستیں ہوئیں جن میں عبوری ائین ایکٹ 1974 ء کے ایک ایک ارٹیکل پر بحث کی گئی ۔ترامیم کا بنیادی نکتہ پاکستان کے ائین 1973 ء میں اٹھارویں اور انیسویں ترامیم کے ذریعہ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینا تھا کہ کس طرح ازاد کشمیر کو بھی دیگر صوبوں کی طرح اختیارات مل سکیں ،کشمیر کونسل فیڈریشن طرز پر قائم ہے ،جس کے پاس دو طرح کے فنڈز ہیں ایک حکومت ازاد کشمیر کے پاس اور دوسرا کشمیر کونسل کے پاس ، کونسل ممبران کا انتخاب ازاد کشمیر اسمبلی کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ اڈیٹر جنرل ایک ہی ہے ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومت پاکستان کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ہم ازاد کشمیر میں ائینی ترامیم کے ذریعے عدالتی اصلاحات چاہتے ہیں اس سلسلہ میں پاکستان طرز پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر اتفاق ہے ۔ ٹیکسیشن کی پاور کے حوالے سے علاقائی حدود جیسے معاملات پر جملہ سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ۔ پیپلز پارٹی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ مجوزہ ائینی ترامیم کی متفقہ سفارشات اسمبلی میں پیش کیں ۔ اس حوالے سے محمد مطلوب انقلابی کا کردار اہمیت کا حامل ہے ۔ کشمیر کونسل کے خاتمہ کے لئے موجودہ تجویز پر اتفاق کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ازاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی تجاویز سے اتفاق کیا ہے تاہم اس سلسلہ میں دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر اسمبلی سے اندر اور باہر کے تمام صاحب الرائے شخصیات اور اداروں کیساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد ہی ایسا ممکن ہے ۔ اکیلے یہ کام ممکن نہیں ۔ جمہوری نظام سے مراد سیاسی اتفاق رائے ہی ہوتا ہے ۔ ہر دو اطراف کے مابین مشاورت اور یکجہتی کے مظاہرہ کے بعد ہی اس طرح کے معاملات حل ہوسکتے ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ وزیراعظم فاروق حیدر کو پارٹی کا اعتماد حاصل نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں پارلیمانی پارٹی اور کابینہ وزیراعظم کیساتھ کھڑی ہیں البتہ ایک نظام کے تحت اپوزیشن اور تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ اس معاملے میں تمام سٹیک ہولڈرز سے بات ہونی چاہیے کیونکہ وزارت امور کشمیر کے ماضی کے کردار کیوجہ سے کشمیر کونسل کا وجود عمل میں لایا گیا تھا اور اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حکومت پاکستان کا بھی کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ وزیراعظم پارلیمانی پارٹی اور کابینہ کو بریف کرینگے اس کے بعد اگلی حکمت عملی طے کی جائیگی ۔ اس وقت گلگت بلتستان اور ازاد کشمیر میں اصلاحات پر بات چیت ہورہی ہے اس حوالے سے مختلف تجاویز زیر بحث ہیں جن میں مختلف ائینی اداروں کو عبوری انتظام کے تحت نمائندگی دیکر پاکستان کی علاقائی حدود میں اضافہ جیسی تجاویز بھی شامل ہیں اس حوالے سے سابق جسٹس گیلانی نے بھی بہت کام کیا ہے ۔ موجودہ تجاویز پر سیمینارز ، مباحثے کی ضرورت ہے ۔ بار کونسل ، میڈیا ، تاجروں اور دیگر مکاتب فکر کو اس ڈائیلاگ میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ جذباتیت اور غیر سنجیدگی کے بجائے سٹیٹس کو سے اگے جانے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر کونسل کے خاتمہ کی تجاویز ائینی ترامیم کی سفارشات سے اگے کی بات ہے ۔ اس حوالے سے مکمل تیاری اور متبادل انتظام ضروری ہے ۔ اس وقت کشمیر کونسل کے پاس چار طرح کے معاملات ہیں جن میں انتظامی ، عدالتی ، قانون سازی اور ترقیاتی عمل شامل ہیں ۔ ایک ادارہ ایسا اکیلے کس طرح کرسکتا ہے ۔ حکومت اور اسمبلی الگ الگ فورم ہیں ۔ ازاد کشمیر حکومت میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے جبکہ کشمیر کونسل میں ایسا نہیں ۔کونسل کے خاتمہ کی طرف پیشرفت اہم قدم ہے اس حوالے سے وزیراعظم فاروق حیدر کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے ۔ پارلیمانی نظام میں مشاورت ہوتی ہے ۔ ائینی ترامیم پر متفقہ سفارشات مسلم لیگ ن نے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی مشاور ت سے دی تھیں جن میں ہم سب شامل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ازاد کشمیر کے عبوری ائینی ایکٹ 1974ء کیوجہ سے بیرون ملک مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ وزیراعظم فاروق حیدر خان کی تجویز سے اصولی اتفاق کیا گیا ہے متبادل انتظام یقینا ان کے ذہن میں ہوگا یہ کریڈٹ کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی کوئی جماعت اکیلے ایسا کرسکتی ہے یہ صرف ازاد کشمیر نہیں بلکہ پوری ریاست جموں وکشمیر کا معاملہ ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے جس طرح یقین دہانی کروائی ہے اس سے نظراتا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوجائیگا اب اگے دیکھتے ہیں کہ حل کیا نکلتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے حوالے سے ازاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے مشورہ دیا ہے کہ وہاں بھی ازاد کشمیر طرز کا انتظامی سیٹ اپ قائم کیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کی قانونی حیثیت متاثر نہ ہو اور اقوام متحدہ کی قراردادیں مسئلہ کشمیر پر موثر رہیں ۔ ہم گلگت بلتستان کے عوام کو ائینی حقوق دینے کے زبردست حامی ہیں ۔ جس انداز میں مشاورت کا عمل جاری ہے یقین ہے کہ ایسا ہوجائیگا ۔ ابھی ابتدا ہے اگے چل کر پتہ چلے گا کہ کیا مکینزم موجود ہے البتہ یکجہتی اور اتفاق رائے پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ہمیں اپنے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان پر مکمل اعتماد ہے وہ مکمل اتھارٹی اور اعتماد کیساتھ حکومت کیساتھ بات چیت کررہے ہیں ۔ سولو فلائٹ کا تاثر درست نہیں کیونکہ بعض اوقات اچانک میٹنگز ہوتی ہیں اس وقت جو جہاں دستیاب ہو وہ وہاں شریک ہوتا ہے ۔ طارق فاروق نے کہا کہ حکومت ازاد کشمیر کا حصہ ہوں کابینہ میں سینئر وزیر اور جماعت کے اندر سینئر نائب صدارت کا عہدہ بھی میرے پاس ہے پوری تندہی اور جانفشانی کے ساتھ ہر جگہ اپنا کردار ادا کررہا ہوں ۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ تو تیار ہے البتہ ایک ابہام موجود ہے انتظامی سطح پر کچھ اصلاحات لیڈر نہیں چاہتے اور کچھ بیوروکریسی نہیں چاہتی ۔ اصلاحات کا تقاضہ ہے کہ عام ادمی کو ریلیف ملے ۔ تھانے کے اندر سفارش کے بغیر ایف ائی ار درج ہو ۔ پٹواری بغیر سفارش و رشوت کے ریکارڈ مال مالک کو مہیا کرے ۔ ہسپتالوں میں ہر ایک کو یکساں صحت کی سہولیات میسر ہوں اور سرکاری تعلیمی اداروںمیں ایسا نظام موجود ہو جس کے تحت سیاسی لوگوں اور افسران کے بچے بھی انہی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں ہمارے ہاں اصلاحات کا تصور نئے اضلاع اور سب ڈویژن کا قیام ہے تاکہ بیوروکریسی کا جال مزید وسیع ہو۔ محکمہ مال پولیس ، انتظامیہ ، تعلیم ، صحت لوکل گورنمنٹ ، میں عام ادمی کیلئے ریلیف انتظامی اصلاحات کمیٹی کا محور ہیں۔ جب تک نچلی سطح پر عامی ادمی کو ریلیف نہیں ملتا اوپر کی سطح پر اصلاحات محض کاغذی کارروائیاں ہی ہونگی ۔ ایک اور سوال پر سینئر وزیر حکومت نے کہا کہ ازاد کشمیر میں اصل حکمران بیوروکریسی ہے اور اب بیوروکریسی کی سیاستدانوں کیساتھ دوستیاں اس قدر گہری اور مضبوط ہو گئی ہیں کہ اب انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ جولوگ ماضی کے حکمرانوں کے قریب تھے اج بھی وہی سامنے اور اگے پیچھے نظر اتے ہیں ۔ فیصلہ سازی ،مشاورت کے تحت ہی ہوتی ہے البتہ فیصلوں میں تاخیر نقصان دہ ہوتی ہے اس وقت ازاد کشمیر میں گزشتہ پونے دو سالہ دور حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ پارلیمانی پارٹی اور کابینہ کے ائندہ متوقع اجلاس میں یقینا بات ہوگی ۔ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم نے انتخابی منشور پر کس حد تک عمل کیا ۔ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم کل اختیارات کا مالک ہے یہ وزیراعظم پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اختیارات مشاورت سے استعمال کرے یا اکیلے اس حوالے سے انگلی نہیں اٹھنی چاہیے ۔ وزیراعظم کی صوابدید ہے کہ وہ کابینہ ، پارلیمانی پارٹی یا کسی سے بھی مشاورت کرے ۔ ہمارے ہاں دوطرح کے انداز حکمرانی ہیں ایک سکندر حیات طرز حکومت ہے اور دوسرا سردار عبدالقیوم طرز فکر ، مسئلہ یہ ہے کہ ہم موجودہ حکومت کا موازنہ ماضی کی حکومتوں سے کرتے ہیں ۔ بیوروکریسی کے حاوی ہونے کا تاثر بھی غلط ہے ۔ فیصلہ سازی میں کابینہ اور پارلیمانی پارٹی شامل ہوتے ہیں ۔ بیوروکریسی نے وہی کرنا ہوتا ہے جو حکومت اسے دیتی ہے ۔ بالاخر بیوروکریسی نے حکومتی پالیسی کے تحت ہی چلنا ہوتا ہے ۔ ماضی کی مثال دیکھ سکتے ہیں کہ ایک وقت میں سردار محمد عبدالقیوم خان شلوار قمیض پہنتے تھے تو بیوروکریسی بھی شلوار قمیض پہننا شروع ہوگئی تھی یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بیوروکریسی حکومت کیساتھ ہی چلتی ہے انہوں نے واضح کیا کہ عقل کل نہیں ۔ غلطیاں ہوسکتی ہیں البتہ حکومت کے حصہ میں کارکردگی کے اعتبار سے کامیابیاں زیادہ ہیں ۔ بہتری کی ضرورت اور گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔ ہم نے انتخابی منشور کے 30فیصد پر عمل کیا ہے 70فیصد پر عمل کرنا باقی ہے ۔ چوہدری طارق فاروق نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان کے سیاسی موسموں کا ازاد کشمیر کے ماحول پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہے ۔ موجودہ کیفیت کو احتیاط کا موسم ہی کہا جاسکتا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر قیادت میاں محمد نواز شریف کے ویژن کو ہی اگے بڑھا رہی ہے ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ میاں محمد نواز شریف کی پالیسی کو ہی اگے بڑھائیں گے ۔ حالات صبح ، دوپہر شام تبدیل ہوتے رہتے ہیں چونکہ ہم وفاق پاکستان کا حصہ نہیں ہیں اس لئے ہمیں پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا چاہیے ۔ہمارا سیٹ اپ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تابع ہے ۔ ہندوستان جوکچھ کررہا ہے پاکستان کے اردگرد ایک خاص ماحول بن چکا ہے ۔ افغانستان ایران اور یورپ کے کچھ ممالک میں پاکستان کیخلاف سازشیں جاری ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان چاروں اطراف سے دشمنوں کے گھیرے میں ہے ۔ بیرونی دبائو پاکستان کیلئے کوئی نئی بات نہیں ۔گزشتہ تیس ، پینتس سال میں پاکستان جن حالات سے گزرا ہے دبائو کے اس طرح کے ماحول میں روسی فیڈریشن تک ٹوٹ گئی تھی ۔ مضبوط پاکستان ہی ہمارا بہتر وکیل ثابت ہوسکتا ہے ۔ ہمارے لئے تمام ادارے قابل احترام ہیں اور توقع ہے کہ پاکستان میں اتحاد و یکجہتی قائم ہوگی ۔ علاقائی سیاسی کشیدگی کے اثرات منفی ہوتے ہیں ۔ پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات داخلہ و خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ دنیا میں ہمیں مذاق نہیں بننا چاہیے ۔ ازاد کشمیر کی سیاست کو اپنے دائرہ کار یعنی ازاد کشمیر کی حدود کے اندر ہی محدود رہنا چاہیے ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اور ادارے ہمارے لئے محترم ہیں ہمیں احتیاط کا دامن سامنے رکھنا چاہیے ۔ سیز فائر لائن پر ائے روز فائرنگ کے واقعات اور سول ابادی کو نشانہ بنانا بھارت کے جنگی جنون کی عکاسی کرتا ہے ۔ گلگت بلتستان اور بلوچستان اس وقت دشمن کے نشانہ پر ہیں ۔ قومی سلامتی اور اندرونی سیاسی اتفاق رائے اور اتحاد کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں ، قومی قیادت اور اداروں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے ۔ بیرون ملک جہاں جہاں پاکستان کیخلاف سازشیں ہورہی ہیں وہاں بھارت ہی سرگرم عمل ہے ۔ بلوچ قوم پرستوں کے پیچھے بھی انڈیا سرگرم ہے ۔ سینئر وزیر ازاد کشمیر حکومت نے ایک سوال پر کہا کہ تحریک ازادی کشمیر کے حوالے سے ازاد کشمیر حکومت کو اپنے معاملات اور کردار کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے ۔ تحریک ازادی کشمیر کیلئے دیگر تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ روابط قائم کرکے کوئی ایک دن قومی سطح پر منانا چاہیے جیسے 27اکتوبر یوم سیاہ کا دن ہے جو پوری دنیا میں ایسے انداز میں منایا جائے کہ بھارت کشمیر پر قبضے کے حوالے سے دنیا کے سامنے ننگا ہو۔ ایک اور سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ بیرون ملک پاکستان و ازاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے ونگز ختم ہونے چاہئیں اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ قومی سطح پر بیرون ملک بھی تقسیم کا نقصان ہوا ہے ۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی مثال سامنے ہے کہ وہاں سیاسی جماعتوں کا کوئی ونگ بیرون ملک موجود نہیں ہمیں بھی ملین مارچ جیسی غیر حقیقی مہم جوئی کے بجائے حق خودارادیت مارچ یاکشمیر مارچ جیسے کام کرنے چاہیں ۔ بیرون ملک مذاق نہیں بننا چاہیے ۔ ہندوستان کے ہر الیکشن میں پاکستان انتخابی مہم کا حصہ ہوتا ہے مگر ہمارے الیکشن میں ہندوستان کسی جگہ نظر نہیں اتا ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سیاست میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں انہیں گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں روس کی اہمیت بڑھا دی ہے ۔ چوہدری طارق فاروق نے سینئر صحافیوں کے ایک سوال پر کہا کہ وزیراعظم کیساتھ ان کا کوئی اختلاف نہیں یہ تاثر کچھ مخصوص لوگوں کا پیدا کردہ ہے جن کے اپنے مفادات ہیں ۔ بجٹ اجلاس کے بعد ڈیڑھ ماہ کی چھٹی پر بیرون ملک گیا تھا واپسی پر وزیراعظم کیساتھ برسلز گیا اور اس کے بعد 10ایام کے لیڈر شپ کورس کیلئے اپنے خرچ پر برطانیہ گیا جہاں اسٹریلین فلو کی وجہ سے متاثر ہوا اور 20دن تک زیر علاج رہا ۔ میری بیماری کو غلط معنی دیئے گئے ۔ دراصل لوگ اپنی خواہشات کی تسکین چاہتے ہیں ۔ 35سال سے صاف ستھری سیاست کی ہے اور ابھی تک خود کو سیاسی طالبعلم ہی سمجھتا ہوں ۔ پارٹی  ڈسپلن کا پابند ہوں جماعت کے اندر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتا ہوں ۔ یس مین نہیں ہوں ۔ سسٹم کا حصہ ہوں اور رہوں گا۔ وزیراعظم فاروق حیدر کو کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ میری تلخ باتوں کو سنتے ہیں اور اختلاف رائے کا احترام کرتے ہیں اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران ہمیشہ واضح پالیسی کی پیروی کی ہے حکومت کی کامیابیوں اور ناکامیوں میں ہم سب برابر کے شریک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کے اندر اختلاف سردار عتیق احمد کے انداز حکمرانی اور طرز سیاست کیوجہ سے ہوا البتہ پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کا کلچر بالکل مختلف ہیں ۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف ، پیپلز پارٹی بھٹو ، جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان ، نیشنل عوامی پارٹی ولی خان ، کی ذات کے گرد ہی گھومتی ہیں ۔ ایم کیو ایم سے الطاف حسین کو الگ کرکے دیکھ لیں اج کیا ہورہا ہے البتہ جماعت اسلامی کی صورتحال مختلف ہے ۔ میاں محمد نواز شریف کو مسلم لیگ ن سے مائنس نہیں کیا جاسکتا ۔ ازاد کشمیر میں مسلم کانفرنس سردار قیوم اور سردار سکندر حیات خان کی شخصیت کی تابع ہی رہی ہے ۔ان کے بعد سردار عتیق احمد خان صورتحال کو نہیں سنبھال سکے ۔ ایک اور سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ مسلم لیگ ن ازاد کشمیر اپنے فیصلوں میں بڑی حد تک ازاد ہے ۔ مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے موجودہ وزیراعظم ہماری مزاحمت کیوجہ سے ہی اس عہدہ تک پہنچے تھے ۔ فاروق حیدر اور سردار عتیق میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں سیاست میں دوستیوں اور ذاتی تعلقات کے قائل ہیں ۔ سیاست میں قیادت حاصل کرنے کا عمل مرحلہ وار ہے ۔ پیپلز پارٹی کے پہلے صدر پیر علی جان شاہ تھے اور اج لطیف اکبر ایک پراسیس کے تحت اس منصب پر پہنچے ہیں ہم میں سے کسی کو جلدی نہیں ۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کو پورا موقع ملنا چاہیے بحیثیت وزیراعظم اور بحیثیت صدر جماعت انہیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حق حاصل ہے ۔ پارٹی اور حکومت میں فاصلہ موجود ہے اور اس کے ہم سب ذمہ دار ہیں جمہوری عمل میں اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے اور ہم اس حوالے سے اصلاح کرینگے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سردار عتیق احمد خان نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑا مارا تھا ۔ ازادکشمیر میں رواداری ، بھائی چارے کی سیاست موجود ہے ہم سب ایک ہی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔ کوشش کرنی چاہیے کہ حکمران اپنے کان بند رکھیں اور انکھوں کا استعمال زیادہ کریں ۔ چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ سیاسی کارکن ہوں اور خدمت کے جذبہ کے تحت ہی سیاست کی ہے خود کو ابھی تک سیاست کا طالب علم سمجھتا ہوں ۔ ازاد کشمیر میں اپوزیشن کے کردار کے حوالے سے پوچھے گے سوال کے جواب پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ مضبوط اپوزیشن کیوجہ سے حکومت کو اصلاح کا موقع ملتا ہے اور غلطیوں کی نشاندہی ہوتی ہے مگر موجودہ اپوزیشن اس طرح کے کردار سے عاری ہے ۔ اسمبلی کے اندر مباحثے کا رجحان نہیں ہے ۔ مباحثے نہ ہونے کیوجہ سے اسمبلی کا کردار بھی محدود ہورہا ہے اگرچہ موجودہ اسمبلی کے اجلاس تو بہت ہوئے ہیں مگر مثبت اور موثر مباحثہ نہیں ہوسکا جو بحث ہوتی ہے وہ بھی ذاتیات کے گرد گھومتی ہے حالانکہ موجودہ اسمبلی کے اندر اپوزیشن میں سردار خالد ابراہیم ، عبدالماجد خان ، چوہدری عبدالمجید جیسے متحرک اپوزیشن ممبران کے طور پر جانے جاتے ہیں