کشمیرکونسل کو ختم کرنیکی باتیں تشویشناک،ایکٹ 74کو اصل حالت میں بحال کیا جائے،سردار عتیق

اسلام آباد(خبرنگارخصوصی)آل جموںو کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر ، سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ایکٹ 74 کو اصل حالت میں بحا ل کیا جائے۔ کشمیر کونسل کے انتظامی اور مالی اختیارات محدود کر کے کشمیر کونسل کا آئینی کرداربحال رکھا جائے۔ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں ایکٹ 74 میں یکطرفہ ترامیم کر کے ایکٹ کا حلیہ بگاڑ دیا گیا اور بعد ازاں جنرل حیات کے دور میں ایک آرڈیننس پاس کر کے حکو مت آزادکشمیر کے مزید اختیارات محدود کر دئیے گئے۔ یکطرفہ ترامیم کے بعد خرابیوں نے جنم لیا اور کونسل آزاد حکومت کے متوازی کھڑی کر دی گئی۔ ا یکٹ 74 ہماری قیادت نے ہی اتفاق رائے سے نافذ کیا تھا جس میں کونسل آزاد حکومت اور حکومت پاکستان کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی تھی۔ اس حساس ایشو پر قومی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نواز لیگ یا کسی فرد واحد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کونسل کا ادارہ ختم کرے۔ ہمارے قائدین نے بہت کوشش کر کے وزارت امور کشمیر سے جان چھڑائی تھی اور ایکٹ 74 کے تحت کشمیر کونسل وجود میں آئی تھی۔ مسلم کانفرنس کا پرزور مطالبہ ہے کہ ایکٹ 1974 ء کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ کشمیر کونسل کو آزادکشمیر حکومت کے متوازی کردار ادا کرنے کے بجائے معاون ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔ کشمیر کونسل کی نشستوں میں اضافہ کر کے گلگت بلتستان کو کونسل میں نمائندگی دی جائے ۔ آئینی ترامیم کے مسودہ پر کشمیری قیادت کا بڑی حد تک اتفاق ہے ۔ایکٹ 74 کے حوالے سے آئینی ترامیم کو زیر غور لایا جائے اور بہتر نظام تشکیل دیئے بغیر کونسل کے خاتمے کی تجویز ناقابل فہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سردار عتیق نے کہا کہ وزارت امور کشمیر سے جان چھڑانے کے لئے حکومت پاکستان اور کشمیر کی سیاسی لیڈر شپ کے باہمی اتفاق رائے سے کشمیر کونسل کو قائم کیا گیا تھا ۔ متبادل انتظام کے بغیر اور قومی قیادت سے مشاوت کیے بغیر کونسل کے خاتمے کی خبریں تشویش ناک ہیں۔ سردار عتیق نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے ہمیشہ ریاستی تشخص پہ پہرا دیا اور طویل جدوجہد کے بعد 1970 میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایکٹ منظور کروایا ۔ ایکٹ 1970 ء آزاد کشمیر کو جنر یحییٰ خان کے دور میں ملنے والی ایک آئینی دستا ویز ہے1970 ء یا 1974 ء ہماری عظیم ریاستی قیادت جس میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان ، مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان،کے ایچ خورشید اور چوہدر ی نور حسین جیسے عظیم راہنمائوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ۔کشمیر کونسل کا رول آزادکشمیر اور پاکستان کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا تھااور مظفر آباد اور اسلام آباد کے درمیان حائل انتظامی کا ازالہ کرنا تھا مگر اس وقت آزاد کشمیر حکومت نے ایکٹ 74 میںیکطرفہ ترامیم کر کے کشمیر کونسل کو آزاد کشمیر حکومت کے متوازی کھڑا کر دیا۔ سردار عتیق نے کہا کہ ن لیگ نے کشمیر کونسل ختم کرنے کا شوشہ چھوڑ کے ابہام پیدا کردیا ہے۔پاکستان کے ساتھ تال میل کے لیے کسی متبادل نظام کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اس نازک مسئلے کو پاکستان کے الیکشن کے موقع پر چھیڑنا مناسب نہیں۔انھوںنے کہا کہ کشمیر کونسل کے ملازمین پر مشتمل پورا ایک انتظامی ڈھانچہ ہے۔ اُن کے مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنانا بنیادی تقاضا ہے۔ مسلم کانفرنس کا روز اول سے ہی مطالبہ ہے کہ ایکٹ 74 کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ باہمی مشاوت سے اس بات کا حل نکالا جائے اور پاکستان کے ساتھ تال میل کے لئے کسی بہتر اور متبادل انتظام کو تجویز کیے بغیر ایسے بے سروپا اعلانات سے مزید بے چینی اور غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوگی۔ انھوںنے کہا کہ ان حساس معاملات پر قومی اتفاق رائے نہایت ضروری ہے۔
