باغ، محکمہ برقیات کا کھلواڑ، بوسیدہ تاریں زمین کو چھونے لگیں

باغ (سٹی رپورٹر) اندھیر نگری چوپٹ راج ، 20سال سے محکمہ برقیات سوئی ہوئی ہے۔ جگانے میں 20سال اور لگیں گے ۔ بیس سالہ پرانی پول پر لگی لکڑی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، تاریں زمیں کو چھو رہی ہیں ۔ اس سے پہلے بھی وزیر جنگلات سردار میر اکبر کی موجودگی میں محکمہ برقیات سے بات طے ہوئی تھی مگر اج تک معاملہ جوں کا توں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سابق وائس چیئرمین یونین کونسل رتنوئی و سماجی رہنما سردار یاسین خان نے صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو اج تک بجلی چوری کی روک تھام کی گئی اور نہ ہی اج تک کسی نے پول اور بجلی کی تاروں کو درست کیا۔ محکمہ برقیات کے ایکسین نے وعدہ کیا لیکن وعدہ ایفا ء نہ ہو سکا۔ کوٹلہ جبڑ اور رتنوئی میں اس سے پہلے بھی ایک نوجوان بجلی کے کرنٹ سے معذور ہوا۔ لیکن تسلی اور دلاسے کے سوا کچھ اقدامات نہ کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ نہ تو کوئی لائن سپرنٹنڈنٹ جاتا ہے اور نہ کوئی لائن مین یا محکمہ برقیات کا کوئی ملازم ادھر اتا ہے ۔ ایکسین برقیات بھی ٹال مٹول سے کام لیتا ہے ۔ اسطرح بیس سال کا زائد عرصہ گزر چکا ہے ہماری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ۔ محکمہ برقیات بد مست ہاتھی بن چکا ہے ۔ دفتر میں شکایت کے لیے جاتے ہیں تو کوئی سننے والا نہیں ملتا الٹا بے عزت کیا جا تاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر ہمارے معاملات یکسو نہ ہوئے تو باغ ڈی سی افس کے باہر دھرنا دیں گے ۔ انہوں نے اعلیٰ حکام ، وزیر اعظم ازاد کشمیر ، وزیر برقیات اور وزیر جنگلات سردار میر اکبر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ہفتے میں ہمارے گائوں کے پول اور تاریں ٹھیک کروانے کے احکامات جاری فرمائیں تا کہ آئندہ کوئی جانی نقصان کا اندیشہ نہ رہے۔