پارلیمنٹ کے قانون عدالتی توثیق کے محتاج ہوں تویہ کون سا آئین ہے، نوازشریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہےکہ پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کون سا آئین ہے۔
جیونیوز کے مطابق اپنے ایک بیان میں نوازشریف نے کہاکہ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سےختم کرنا خطرناک ہوگا، پارلیمنٹ کےکسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے، پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کون سا آئین ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین ریاست کا نظام چلانے والی سب سے مقدس دستاویز ہے، آئین کی دستاویز عوام کے منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ ہی بناتی ہے، پارلیمنٹ آئین کے ذریعے دیگر اداروں اور اپنی حدود کا بھی تعین کرتی ہے۔
میاں نوازشریف نے کہا کہ اداروں کا احترام ان اداروں کی کارکردگی اور احترام سے ہوتاہے، پارلیمنٹ کو دنیا بھر میں اداروں کی ماں بھی سمجھاجاتاہے، جج صاحبان کا آئین کو مقدس اور بالا تر دستاویز قرار دینا خوش آئند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 32برسوں تک آمروں نے دستور کو ردی کی ٹوکری میں ڈالے رکھا، آمروں کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے سب کچھ دیکھتے رہے، آج تک آئین کو کوئی زخم پارلیمنٹ نے نہیں لگایا، سارے زخم صرف عدلیہ کےکچھ جج صاحبان کی مدد سےآمروں نےلگائے۔
