تعلیمی اصلاحات،ٹیچر یونین نے چیف سیکرٹری کے احکامات غیر آئینی قرار دیدیئے
جہالہ ( راجہ آصف صیاد )محکمہ تعلیم اور چیف سیکرٹری آزادکشمیر میں ٹھن گی ۔ٹیچر یونین نے چیف سیکرٹری کے احکامات کو غیر آئینی اور غیر اخلاقی قرار دیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم آزادکشمیر میں چیف سیکرٹری کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں سرکاری تعلیمی ادارہ جات سے غیر حاضر اساتذہ ٹھیکہ پر چلنے والے سکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیاگیا۔ چیف سیکرٹری آزادکشمیر کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے عاملان محکمہ مال کو حکم دیاہے کہ وہ گرلز اور بوائز ادارہ جات میں جاکر چیک کریں کہ اس ادارہ میں کتنے اساتذہ تعینات ہیں۔ اور کتنے حاضر نہیں ہوتے ہیں۔حاضر نہ ہونے والے اساتذہ کا نام اور ولدیت اور گریڈ مرتب کرنے کا پابند کیاگیاہے۔ساتھ ہی دلچسپ امر یہ ہے کہ عاملان محکمہ مال کوسخت ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی اہلکار نے بھی ذاتی تعلق کی بنیاد پر کسی غیر حاضر استاد کا نام چھوڑ دیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میںمرکزی سنیئر نائب صدر ٹیچر یونین آل پاکستان سید خالد گیلانی سے جب موقف لیاگیا۔ تو انہوںنے کہا کہ ٹیچر ایسوسی ایشن اس طرح کے احکامات کو کالعدم قرار دیتی ہے۔ اور بھر پور مزمت کرتی ہے۔استاد ایک روحانی باپ ہوتاہے۔چیک اینڈ بیلنس کیلئے تعلیمی انتظامیہ میں محنتی اور فرض شناس لوگ تعینات ہیں۔ ان کی موجودگی میں کسی دیگر شخص سے چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت نہ ہے۔ تمام اساتذہ کرام اپنے اپنے ادارہ جات میں بروقت حاضر ہوںکسی بھی غیر ضروری شخص کو سکول ریکارڈ نہ دکھائیں۔اور نہ ہی اس طرح کسی کے ساتھ تعاون کریں۔اگر کوئی شخص اس طرح کسی تعلیمی ادارے میں گیا تو وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ تعلیمی انتظامیہ خو دچیک کرے جو بھی استادغفلت کا مرتکب ہو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ مگر باہر کے کسی شخص کوبھی تعلیمی اداروں کے اندر برداشت نہیں کریںگے۔
