تمام جماعتیں ایکٹ 74 کے خاتمے کے لیے ساتھ دیں:شاہ غلام قادر

سہنسہ (نمائندہ خصوصی )آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر نے کہا کہ کشمیر کونسل کے خاتمے کی جانب اہم قدم ہے اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کابینہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کا سلسلہ جاری ہے یہ مسلہ ایک پارٹی کا مسلہ نہیں ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ ہے۔ تمام جماعتوں کو ایکٹ 74 کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چائیے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے جس طرح یقین دہانی کروائی ان کی پالیسی واضح نظر آرہی ہے ہم اس سلسلے کو خوش اسلوبی سے حل کریں گے حکومت کی کوشش اور خواہش ہے کہ مکمل یک جہتی اور اتفاق رائے سے یہ معاملہ انجام پذیر ہو ۔ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم اختیار ات کا منبع اور مرکز ہوتاہے قومی مسائل قومی یکجہتی سے حل کر نے کی ضرورت ہوتی ہے ان خیالات کااظہار انھوں نے ن لیگ کے مرکزی رہنما اور برطانیہ کے ممتاز قانون دان تصور نقوی ایڈووکیٹ کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کونسل فیڈریشن طرز پر قائم ہے جس کے پاس دو طر ز کے فنڈز ہیں ایک حکومت آزاد کشمیر کے پا س اور دوسرا کشمیر کونسل کے پاس ہوتا ہے کشمیر کونسل کے ممبران کا انتخاب آزاد کشمیر اسمبلی کے ذریعے ہوتاہے جن کا ایڈیٹر جنرل ایک ہی ہے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت حکومت پاکستان کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ہم آزاد کشمیر میں آئینی ترمیم چاہتے ہیں اس سلسلے میں پاکستانی طرز پر جیوڈیشل کمیشن بنانے پر اتفاق ہے ۔ ٹیکسیشن کی پاور کے حوالے سے علاقائی انتظامی امور جیسے معاملات پر جملہ سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے انھوں نے کہا وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی تجویز پر اتفاق کیا ہے تاہم اس سلسلہ میں اسمبلی کے اندر اور باہر صاحب رائے شخصیات اداروںکے ساتھ مشاورت و اتفاق رائے بھی ممکن ہے جمہوری نظام سے مراد سیاسی اتفاق رائے ہی ہوتاہے وزیر اعظم کابینہ پارلیمانی پارٹی کو بریف کرنے کے بعد پھر اگلی حکمت عملی طے کی جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کے زبردست حامی ہیں وہاں بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ قائم  ہوجائے تو مسلہ کشمیر کی قانونی حیثیت مضبوط ہوسکتی ہے ۔