باغ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر میں کام کرنیوالے ترک کمپنی کے ملازمین کا مظاہرہ

باغ(محمود راتھر سے)باغ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر میں کام کرنے والے ترکی کمپنی سیاہ قلم کے ملازمین اپنے مطالبات کے حق میںمظاہرہ مظاہرین تین ماہ کی تنخوائوں کی بندش،اور کمپنی کے انجینئرز کے ناروا سلوک کے خلاف مظاہرہ کیا احتجاجی مظاہرے سے ملازمین کے نمائندہ وفد اشتیاق عباسی،اختیار شائق،حافظ محمد ارشد،محمد گلفراز،عبدالخالق،نادر عباسی،ثناء اللہ گردیزی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاہ قلم کمپنی کے مالکان ہمیں تین ماہ سے تنخواہ نہیں دے رہے اور مہینے میں چار چھٹیاں بھی نہیں دیتے اس کے ساتھ میڈیکل الائونس ،اور ڈیوٹی 8گھنٹے کے بجائے ساڑھے دس گھنٹے لی جاتی ہے یہ ظلم اور ناانصافی ہے کشمیریوں کو فورمین جاوید مسی نے گالیاں دیتا ہے جس پر کشمیری ملازمین سراپا احتجاج ہو گئے اس پر جاوید مسی کے لوگوں نے ہمارے مالزمین پر حملہ کیا اجس پر جہانزیب عباسی کے سر میں ہیھوڑی سے وار کر کے شدید زخمی کردیا گیا یہ لوگ ہمارے ملازمین کو بلا وجہ نوکری سے نکال دیتے ہیں جس میں ہمارے فورمین فیض اللہ عباسی کو بغیر کسی وجہ کے نوکری سے نکال دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کرم الہی،زاہد،خرم،شاہد،مکی یہ لوگ کشمیری ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماہ جیسا سلوک کرتے ہیںیہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ کشمیر میں ہے اس میں ہمیں ملازمت میں80فیصد کوٹہ دیا جائیمظاہرین نے کہا کہ ہم اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک ہمارے تمام مطالبات سو فیصد منظور نہیں ہو جاتے فورمین ہمارے ملازمین کو بغیر کسی وجہ کے دہیاڑی کاٹ دیتے ہیں یہاں رشتہ داری اور تعلق کی بنیاد پر لوگوں کو نوازا جا رہا ہے پڑھے لکھے لوگ مزدوری کرتے ہیں جبکہ ان پڑھ لوگوں کو سوئیر کے ساتھ رکھا جاتا ہے انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر،ضلعی انتظامیہ باغ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے مطالبات فوری طور پر منظور کروائے جائیں ورنہ ہمارا احتجاج جاری رہے گا ۔(فوٹو میل ہیں)