کسی بڑی سازش کی بو آرہی ہے،پی پی دور میں تیار ہونیوالی 22آئینی ترامیم کو من و عن نافذ کیا جائے،لطیف اکبر

اسلام آباد(خبرنگارخصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے سابقہ دور حکومت میں ایکٹ 74ء میں آئینی ترمیم کے لئے تیار مسودہ کو من و عن نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صدر پی پی پی آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے دیگر پارٹی قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں ۔ کشمیر کونسل کے انتظامی و مالیاتی اختیارات ختم کر کے آزاد حکومت کو ملنے چاہیں ۔ پیپلز پارٹی دور میں تیارکردہ ترمیمی مسودہ وفاقی حکومت کے پاس ہے اس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بھی اپوزیشن لیڈر کے طور پر اس مسودہ کی تیاری میں شامل رہے ۔ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر تمام جماعتوں نے پی پی دور میں تیار ہونے والی ترامیم پر اتفاق کیا تھا ان پرعمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ہم نے ترمیمی مسودہ تیار کرنے کے لیے سب کو اعتماد میں لیا اور سب کی رائے کی روشنی میں دو سال تیار ہوا تھا ۔ کشمیر کونسل کے خاتمہ کی بات کی گئی لیکن وزیر اعظم نے اس پر کسی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا ۔اس وقت تک یہ صرف زبانی دعوے ہی نظر آ رہے ہیں عملاً آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو آن بورڈ نہیں لیا گیا ۔ میاں نواز شریف کی مودی کے ساتھ یاری اور دوستی کی داستانیں چھپی نہیں ہیں راتوں رات کونسل کے خاتمے کی باتوں سے سازشوں کی بو آ رہی ہے ۔ حکومت اگر مخلص ہے تو ہمارے دور کی تیار تجاویز پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ہماری تجاویز میں تمام اختیار ات حکومت آزاد کشمیر کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ کونسل کا کردار صرف ایک پل کا ہی رہ جاتا ہے ۔ اگر کونسل کا خاتمہ ہی ضروری ہے تو آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور جماعتوں سی مشاورت کی جانی چاہیے ۔ کشمیر کونسل ہمیشہ کرپشن ، بند بانٹ کا گڑھ رہا ۔ آج بھی کشمیر کونسل سے 40فیصد اور 30فیصد پر سکیمیں فروخت کی جا رہی ہیں ۔ کشمیر کونسل میں موجود پیسہ کشمیریوں کی جمع پونجی اور ٹیکسز کا ہے جسے سابقہ دور میں وزیر امور کشمیر من مانی کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں استعمال کرتے رہے اور 30فیصد پر سکیمیں بیچتے رہے ۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پی پی پی کے سیکرٹری جنرل راجہ فیصل ممتاز راٹھور ، سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب ، سابق سپیکر و چیف آرگنائزر سردار غلام صادق ، نائب صدر میاں عبد الوحید ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سید عزادار حسین کاظمی، ایڈیشنل رابطہ سیکرٹری امجد جلیل ، پی ایس ایف کے چیئرمین سردار عبدا لشکور، مرکزی رہنما سید تصدق گردیزی اور دیگر بھی موجود تھے۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ  آزاد کشمیر حکومت کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں اور کشمیر کونسل کے اختیارات محدود کر کے بیس کیمپ کی حکومت کو با اختیار بنانا ہمارا مقصد ہے ۔ کونسل کے ذریعے آزاد حکومت پر وائسرائے طرز کی حکمرانی جبکہ کونسل کے آفیسران کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہیں ۔ کونسل میں ہونے والی کرپشن پر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ کشمیر کونسل کی نئی بلڈنگ میں کروڑوں کی کرپشن ہوئی کسی بھی غیر جانبدارانہ تحقیق میں سب کچھ سامنے آ جائے گا ۔ کشمیر کونسل اور ایکٹ 74ء کو کشمیری عوام پر ٹھونسا نہیں گیا تھا بلکہ اس وقت کے صدر اور کشمیری قیادت کے دستخط موجود اور ان کی مرضی بھی شامل تھی ۔ ضیاء مارشل لاء میں توٹیفکیشن کے ذریعے اختیارات کشمیر حکومت سے لے کر کشمیر کونسل کو دیے گئے تھے اس وقت غیر جمہوری حکومتوں اورغیر جمہوری گماشتوں نے یہ کام کیا تھا ۔ہم نے تنگ آ کر آصف علی زرداری سے بات کی کہ کشمیریوں کی پاکستان سے محبت غیر متزلزل اور ہمارے دریائوں کا رخ پاکستان کی جانب ، ہماری جنگل تکمیل پاکستان کی جنگ ہے لیکن آزاد کشمیر حکومت کو بااختیار کیا جائے اس پر سابق صد ر آصف زرادری نے منظور وٹو کو آل پارٹیز کانفرنس بلا کر مشاورت کے بعد کمیٹی قائم کر کے ترمیم تیار کرنے کا کہا جو تمام کشمیری جماعتوں اور قیادت کی مشاورت سے دو سال میں یہ مسودہ تیار ہوا جس میں فاروق حیدر اور ان کی پارٹی کے ممبر بھی شامل تھے ۔ یہ کریڈٹ کا مسئلہ نہیں لیکن پیپلز پارٹی نے عملی قدم اٹھایا اب آزاد کشمیر حکومت کے اختیارات کا قائدہ پڑھنے والے کیوں ان سفارشات پر عمل در آمد نہیں کروا رہے اور صرف ہوائی اعلانات کر کے آزاد کشمیر کی عوام کو بے وقوف نہ بنایا جائے ۔لطیف اکبر نے کہا کہ اس وقت کونسل کے خاتمے کی بات کی جا رہی ہے ہم پوچھتے ہیں کہ ہمارے دور میں فاروق حیدر نے بطور اپوزیشن لیڈر جو سفارشات و مسودہ تیار کیا تھا اس کو کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ہمارے تیار کردہ مسودے پر اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں ، اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی ، جے کے پی پی ، جے یو آئی، لبریشن لیگ، بار کونسل وکلاء ،صحافیوں اور سول سوسائٹی کی رائے کی روشنی میں مسودہ اتفاق رائے سے تیار کیا گیا تھا ۔ ہمارا مطالبہ ایک ہی ہے کہ ان 22 آئینی ترامیم کو من و عن نافذ کیا جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ کشمیر کونسل کے خاتمہ الگ بات ہے پی پی پی دور کی ہماری سفارشات کے بعد کونسل کی حیثیت محض ایک برج کی رہ جاتی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں سے معاملہ میں مشاورت کے لیے مطلوب انقلابی ، فیصل راٹھور اورسردار جاوید ایوب پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی ہے جو تمام جماعتوں سے مشاورت کر ے گی ۔ آزاد کشمیر حکومت عجلت میں فیصلے کرنے میں مصروف ہے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کس طرح اقدامات اٹھائے جائیں ۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر کشمیر کونسل کو ایکٹ 74ء میں ترمیم کے دعوے کرنے والے فاروق حیدر کو اب ترمیم کرنے سے کس نے روکا ہے۔ کشمیر کونسل کے خاتمے کی بات کر کے عوام کے ذہنوں کو الجھانے کی کوشش کی گئی عملاً کوئی قدم نظر نہیں آیا ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کونسل کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کی آڑ میں ہمیں ساز ش کی بو آ رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں لطیف اکبر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کا ایک ہی مؤقف ہے ۔ اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی کے ہیں اور ہماری پالیسی ایک ہی ہے آج ہم سب نے مشاورت سے اپنا مؤقف دیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں راجہ فیصل راٹھور نے کہا کہ مودی اور میاں نواز شریف کی یاری پر کسی کو شک و شبہ نہیں ہے اور ایکٹ 74ء میں ترامیم کی بجائے اچانک کشمیر کونسل کے خاتمے کی بات راتوں رات سامنے آئی جس سے سازش کی بو آ رہی ہے ۔ یہ صرف مسلم لیگ ن کا یک جماعتی عجلت پر مبنی ہوائی اعلان ہے کسی کی مشاورت اس میں شامل نہیں ہے ۔ ہم عملاً ایکٹ میں ترمیم چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی نے محنت سے مسودہ تیار کر کے ثابت بھی کیا ہے کہ ہم عملی اقدام اٹھا چکے ہیں صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہوائی اعلان نہیں کیا ۔