آزادکشمیر میں ٹورازم کوریڈور کیلئے 3ارب پرائیویٹ سیکٹر سے لینے کا فیصلہ قدرتی ماحول کا تحفظ یقینی بنائینگے:فاروق حیدر

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) آزاد کشمیر کے اندر سیاحت کو ترقی دینے اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے ،اس شعبہ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دینے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں نیلم قلعہ سمیت آزاد کشمیر بھر کی تاریخی عمارات کی بحالی اور بہتری کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ آزاد خطہ کے اندر سیاحت کو فروغ مل سکے اور ہمارا قومی ورثہ بھی محفوظ ہو سکے آزاد کشمیر بھر میں سیاحتی حوالے سے مشکلات دور کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے قانونی لوازمات کے لیے ون ونڈو آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی ،سیکرٹری جنگلات سید ظہور الحسن گیلانی ،سیکرٹری سیاحت مدحت شہزاد ،ڈائریکٹر جنرل سیاحت سردار جاوید ایوب اور دیگر نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی بھی موجود تھے اجلاس میں مختلف نجی کمپنیوں کی طرف سے سیاحت کی ترقی کے لیے پیش کردہ تجاویز اور پرپوزلزکا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ ٹورازم کوریڈور 10ارب کا منصوبہ ہے جس میں سے 3ارب روپے پرائیویٹ سیکٹر سے لیے جائیں گے پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی ترقی میں دلچسپی رکھنا حوصلہ افزاء ہے آزاد کشمیر کے قدرتی ماحول کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے سیاحتی مقامات کو ترقی دیئے جانے کے منصوبے پر عمل کیا جائے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت سیاحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ہر ممکن سہولیات مہیا کرے گی سیاحت کے شعبہ کی ترقی سے لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے آزادکشمیر کے اندر پرانے تاریخی مقامات کی بہتری اور بحالی کے لیے بین الاقوامی تربیت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں آزادکشمیر میں سٹیٹ آف دی آرٹ میوزیم قائم کیا جائے گا جس میں تاریخی نوادرات رکھے جائیں گے، سیاحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پرائیویٹ سیکٹر کو اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے لیے جملہ سہولیات مہیا کی جائیں گی اور نجی سیکٹر کو مکمل قانونی تحفظ مہیا کیا جائے گا۔
اسلام آباد(خبرنگار خصوصی ) وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نہتے شہریوں کو جارحیت کا نشانہ بنا رہی ہے ایل او سی پر بھارت کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ پاک بھارت جنگ چھڑنے کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ہے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے بھارت نے ایل او سی پر فائرنگ بند نہ کی تو پھر ہم اس کا مقابلہ کریں گے اور میں خود لڑائی لڑوں گا ہندوستان ہماری امن کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے۔پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کا لازمی حصہ ہیں۔ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں موجود ہیں عالمی برادری نے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا وعدہ کر رکھا ہے کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں پاکستان دنیا میں کشمیریوں کا واحد وکیل ہے پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت کی پاکستان آزادکشمیر کی ترقی عوامی خوشحالی کے لیے وافر مقدار میں بجٹ مہیا کر رہا ہے پاکستان کی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے افواج پاکستان پر فخر ہے پاکستانی فوج انسانی اقدار کی محافظ ہے افواج پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر کبھی دوسری طرف کی سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا پاکستانی فوج بھارتی جارحیت کا جواب دیتی ہے اور بھارتی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیر اہتمام نیشنل سیکیورٹی اینڈ وارکورس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا اس موقع پر 41ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی آفیسران موجود تھے بریفنگ اور ورکشاپ کا انعقاد این ڈی یو نے کیا تھا وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر نہتے افراد بھارتی جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں قابض بھارتی فوج نہتے سویلین کو دہشتگردی کا نشانہ بنا رہی ہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 7لاکھ فوج کو کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں مصروف ہے نہتے عوام پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جا رہا ہے پیلٹ گن کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں ،بچوں ،عورتوں ،بوڑھوں ہر عمر کے افراد کو اپاہج بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر تقسیم بر صغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے بھارت نے جبر کے زور پر مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے کشمیریوں نے بھارت نے جبری قبضہ مسترد کر دیا ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اپنے پیدائشی حق ،حق خود ارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بھارتی افواج کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اسی صورت میں معمول پر آسکتے ہیں جب مسئلہ کشمیر حل ہو گا مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری ممکن نہیں دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے سارے راستے کشمیر سے ہو کر گزرتے ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے انہوں نے کا کہ پاکستان کشمیریوں کا مسیحا ہے ہر مشکل وقت میں پاکستان نے کشمیریوں کی دل کھول کر مدد کی آزادکشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی طرف سے ضرورت سے زیادہ وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں آزادکشمیر کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت خطہ میں میگا پراجیکٹس کے لیے پاکستان نے ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج دنیا کی اعلیٰ افواج میں سے ایک ہے ۔ پاک فوج دنیا کی دیگر افواج کی تربیت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاک فوج سے تربیت حاصل کرنے والے دوسرے ممالک کے افسران کی پیشہ وارانہ استعداد کا ر میں اضافہ ہو گا ۔ ہندوستان نے اگر کوئی آزمائش مسلط کی تو پاک فوج کے شانہ بشانہ پوری قوم لڑے گی اور میں خود بندوق لے کر بارڈر پر جائوں گا اور لڑوں گا۔ ہندوستان نے اپنی فوج کو کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس دے رکھا ہے ہم امن پسند ہیں لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو جارحانہ ہتھکنڈوں سے بازرکھے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو نوٹس لے۔ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے لیء ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے۔
