عدالتی نظام جتنا تیز ہوگا اتنا عوامی اعتماد بڑھے گا:جسٹس ابراہیم

میرپور(بیورو رپورٹ) آزادجموںوکشمیر کے چیف جسٹس چوہدری محمدابراہیم ضیاء نے کہاہے کہ کشمیر آئینی خطہ ہے، ہمارے لیے سب برابرہیں، ہماری کوئی پسند وناپسندنہیں اور نہ ہی کسی سے کوئی دشمنی ہے ۔وکلاء نے ایک فریق کی بات کرنی ہوتی ہے جبکہ ہم نے دونوں فریقوں کی بات سن کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، وکلاء کے تعاون کی وجہ سے لوگوں کوجلد اور سستاانصاف مل سکتاہے۔اداروں کو آئین کے مطابق چلانے کے لیے بار اور بنچ کے مضبوط تعلق کی ضرورت ہے۔ عدالتوں کابنیادی فرض اور ذمہ داری ہے کہ لوگوں کوجلد انصاف کی فراہمی ہو۔ اس سلسلہ میں وکلاء کابھی بنیادی کردارہے۔ عدالتی نظام جتناتیز اورموثر ہوگا اتناہی معاشرے میں لوگوں کااعتماد عدالتوں پربڑھے گا۔
ان خیالات کااظہار انھوں نے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس غلام مصطفی مغل اور جسٹس سردارعبدالحمید خان کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس راجہ محمدسعید اکرم خان ،جسٹس غلام مصطفی مغل، جسٹس سردار عبدالحمید،نومنتخب صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن چوہدری شریف ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری میاں سلطان محمود، حافظ محمدارشدایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پرآزادکشمیرہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالمجید ملک ،آزادکشمیرکے ایڈووکیٹ جنرل رضاعلی، سابق وائس چیئرمین حاجی منصف د اد ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ بار کے صدرچوہدری عزیزالرحمان ایڈووکیٹ، بارکونسل کے ممبران ، سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کے عہدیداران واراکین بھی موجود تھے، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس چوہدری محمدابراہیم ضیاء نے کہاکہ آزادکشمیرمیں انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتیں اپنا بھرپور کردار اداکررہی ہیں۔ قانون و قاعدے کے مطابق انصاف کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاجائے گا۔انھوں نے کہاکہ باراور بنچ کے مضبوط تعلق سے انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہے۔ چیف جسٹس آزادکشمیرنے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزادکشمیر کے نومنتخب عہدیداران کومبارکباد دی۔