مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی گاڑی پر فائرنگ،7شہید،وادی بھر میں ہڑتال مظاہرے،جھڑپوں میں درجنوں زخمی

سرینگر(اے این این )مقبوضہ کشمیر  کے ضلع شوپیاں  میں بھارتی فوج نے  ایک نجی گاڑی پراندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے  میں  شہید  ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 7ہو گئی ہے جبکہ وادی میں  واقعہ کیخلاف مزاحمتی خیمے کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی،واقعہ کے خلاف علاقے میں  لوگ رات بھر سراپا احتجاج رہے  ،اس دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں  متعدد افراد زخمی ہو گئے، مشتعل مظاہرین کی بھارتی فورسز کے خلاف شدید نعرے بازی ،قابض اہلکاروں پر پتھراؤ، بھارت فوج کا طاقت کا وحشیانہ استعمال ،مارے جانے والوں میں دو مجاہد  اور طالب علم سمیت چار کو  سہولت کار قرار دے دیا،اہل علاقہ نے بھارتی الزام مسترد کر دیا،لاشیں لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ ،علاقے میں صورتحال پھر کشیدہ،کاروباری مراکز،تجارتی ادارے  بند،ٹریفک غائب ،انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں  کے علاقے پہنو میں  گزشتہ روز بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے مزید دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی  ہیں  جس کے بعد مرنے والے نوجوانوں کی تعداد7ہو گئی ہے ۔ ان میں سے گوہر احمد لون  نامی ایک نوجوان کی لاش متاثرہ گاڑی سے 200میٹر دور سے ملی ہے ۔گوہر کو چار گولیاں  ہیں  اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔24سالہ گوہر ناگپور یونیورسٹی کا طالب علم بتایا گیا ہے  جو اپنے دوستوں کے ساتھ گھر سے نکلا تھا۔دوسری لاش کی شناخت عاشق احمد بھٹ کے نام سے ہوئی ہے جسے بھارتی فوج نے لشکر طیبہ کا جنگجو قرار دیا ہے جبکہ مقامی لوگوں نے اس الزام کی تردید کی ہے ۔ بھارتی فوج کے مطابق عاشق کی لاش  جائے وقوعہ سے 10کلو میٹر سید پورہ کے ایک باغ سے ملی ہے  جو زخمی حالت میں بھاگتا رہا اور خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے دم توڑ گیا۔اس سے قبل  اتوار کی رات  بھارتی فوج نے  شوپیاں کے مضافاتی  گاؤں پہنو  میں  بھارتی فوج نے ناکے پر ایک نجی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی  جس کے نتیجے میں پانچ  نوجوان  موقع پر شہید ہو گئے تھے۔ بھارتی فوج نے  ان میں سے ایک کو مجاہد اور  تین اور جنگجوؤں کے سہولت کار قرار دیا تھا۔شوپیان سے قریب 6کلو میٹر دور شوپیان ترکہ وانگام روڑ پر پہنو نامی گائوں پڑتا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب وہ نماز مغرب کے بعد مقامی مسجد سے باہر آرہے تھے تو گورنمنٹ ہائی سکول پہنو کے بالمقابل واٹر ٹینکی کے متصل تھری وے سڑک پر فائرنگ ہوئی اور فائرنگ قریب 15منٹ تک جاری رہی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازیں سننے کے فورا بعد وہ گھروں کی طرف بھاگ گئے اور جب فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا تو انہوں نے ہلاکتیں ہونے کی اطلاع سنیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ جس جگہ فائرنگ ہوئی وہاں سے پنجورہ،تراپڈ پورہ اور اگلر کی طرف راستے جاتے ہیں اور انہوں نے سنا کہ واٹر ٹینکی کے نزدیک مقامی 44آر آر کیمپ کے اہلکارآنے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کررہے تھے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک سویفٹ کار میں پانچ  افراد سوار تھے جونہی مذکورہ کار وہاں پہنچ گئی تو فوجی اہلکاروں نے اسے روکا اور اسکے ساتھ ہی فائرنگ ہوئی جو قریب 15منٹ تک جاری رہی۔بھارتی فوج کی فائرنگ سے مارے جانے والے ایک نوجوان عامر ملک ولد محمد بشیر ساکن حرمین شوپیاں کو بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کا جنگجو قرار دیا جبکہ اس کے ساتھ مارے جانے والے   شاہد احمد ڈار  ولد مشتاق ڈار سکنہ جمن گڑھی شوپیاں ،سہیل خلیل ولد خلیل الرحمن سکنہ پنجوڑہ شوپیاں ، محمد شاہد سکنہ ملک گنڈ شوپیاں ، اور شاہنواز سکنہ  ترنز شوپیاں  کو مجاہدین کا سہولت کار قرار دیا گیا  تاہم مقامی لوگوں  نے  بھارتی فوج کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارے جانے والے تمام نوجوان عام شہری اور دوست تھے  ۔بھارت کے دفاعی ترجمان  کرنل راجیش کالیا نے واقعہ میں  7نوجوانوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مارے جانے والوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تاہم  انھوں نے اسلحہ استعمال نہیں کیا اسی لئے بھارتی فوج کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔مقامی پولیس  نے بھی واقعہ کی تصدیق کی ہے ۔ شوپیان پولیس کے ایک اعلی آفیسر جو جائے وقوع پر موجود تھا، نے کشمیر عظمی کو رات دیر گئے بتایا کہ فوج نے انہیں کیمپ کے نزدیک آنے نہیں دیا اور نہ ہی لاشیں حوالے کی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ادھر فوج  کے ترجمان کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے  شام کے قریب 8بجے پہنو گائوں میں گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران فوجی پارٹی پر ایک کار سے فائرنگ کی گئی اور فائرنگ میں ایک جنگجو مارا گیا جبکہ اسکے 3ساتھی، جو بالائی سطح پر جنگجوئوں کے لئے کام کرتے تھے، بھی مارے گئے۔ترجمان نے کہا پولیس موقعہ پر پہنچ گئی ہے اور قانونی لوازمات پورے کئے جارہے ہیں۔ دریں اثناء واقعہ کے خلاف علاقے کے عوام رات بھر سراپا احتجاج رہے اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کی ۔اس  دوران پولیس بھی پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد کیمپ کی طرف جانے لگی لیکن فورسز و پولیس نے انہیں روکا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں جو رات دیر گئے تک جاری رہیں۔مظاہرین اور فورسز میں پتھرائو، شلنگ، پیلٹ فائرنگ ہوئی، جس کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ایس ایچ او شوپیان نے  بتایا کہ انہیں ہلاکتوں کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہے کیونکہ پولیس کو کیمپ تک جانے کی مہلت ہی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن و قانون کی صورتحال قابو میں رکھنے پر مامور ہے اس لئے وہ مزید کچھ نہیں بتا سکتے۔ تاہم انہوں نے کہ انہیں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں۔دریں اثناء پیر کو واقعہ کیخلاف  مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر  وادی میں ہڑتال اور احتجاج کیا گیا ۔اس دوران مختلف مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں ۔کئی جگہوں پر مشتعل مظاہرین نے بھارتی فورسز کے اہلکاروں اور گاڑیوں پر  پتھراؤ کیا جس کے جواب میں بھارتی فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو ئے ۔وادی میں ایک بار پھر کشیدگی کی لہر میں اضافہ ہو ا ہے  جس کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے ۔سڑکوں سے ٹریفک غائب اور انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔حاجن میں شہادتوں کے بعد گزشتہ روز ہی حالات معموپر آئے تھے کہ بھارتی فوج نے نیا کھیل کھیل کر حالات کو پھر سے خراب کر دیا ہے ۔اس دوران شوپیاں میں لوگوں نے فوجی کیمپ کا محاصرہ کر کے شہداء کی میتین لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔دریں اثناء کھوسہ محلہ حاجن بانڈی پورہ میں شبانہ چھاپوں کے دوران ایک بزرگ شہری سمیت3افراد کو گرفتار کیا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق75برس کے شہری حاجی سنااللہ بٹ،محمد عامر پرے اور غلام قادر ڈار کو فورسز نے شبانہ کارروائی کے دوران حراست میں لیا۔چھاپوںکے دوران مقامی نوجوانوں اور فورسز کے مابین شدید جھڑپ ہوئی ۔ مظاہرین نے فورسز پر شدید پتھرائو کیا اور جواب میں فورسز نے آنسو گیس اور پاواشل داغ کرسنگ باری کرنے والوں کو منتشر کیا ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ ان افرادکی گرفتاری حالیہ دنوں میں جنگجومخالف آپریشن اورایک مہلوک جنگجوکی آخری رسومات کے دوران ہوئے احتجاجی مظاہروں کے تحت عمل میں لائی گئی ہے ۔ 75سالہ ثنا اللہ بٹ کے بیٹے محمدافضل نے بتایاکہ ان کامعمروالدکئی امراض میں مبتلا ہے ،اور وہ اکثر بیمار ہی رہتا ہے۔ مقامی پولیس نے ان گرفتاریوں کے بارے میں لاعلمی ظاہرکی ہے۔