دوہری شہریت رکھنے والے 28کشمیری افسر کارروائی سے بچ گئے

مظفرآباد( وقائع نگار) قانونی سقم ہونے کی وجہ سے دوہری شہریت رکھنے والے آزاد کشمیر کے 28سرکاری آفیسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکے گی۔آزادکشمیر کے سروس رولز میں کہیں بھی دوہری شہریت والوں کے لیے ملازمت کے دروازے بند کرنے کی دفعہ موجود نہیں جس کے باعث دوہری شہریت رکھنے والے آفیسران اور ملازمین جبری فراغت سے بچ جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق نادرا کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملک بھر کے دوہری شہریت کے حامل آفیسران اور ملازمین کی فہرست میں آزادکشمیر کے بھی 28آفیسران  شامل ہیں۔پنجاب کے 52،خیبرپختونخوا کے 17جبکہ گلگت بلتستان کے 2آفیسران بھی دوہرے پاسپورٹ کے حامل نکلے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر میں یہ تعداد درجنوں میں نہیں سینکڑوں میں ہے۔آزادکشمیر کے متعدد آفیسران ان دنوں بھی چھٹی لے کر برطانیہ،کینڈا،امریکہ اور دیگر ممالک میں اپنا کاروبار اور روزگار کررہے ہیں ان پر کوئی گرفت نہیں کی گئی۔بعض آفسران ایسے ہیں کہ جو دو سال کی چھٹی لے کر بیرون ممالک چلے جاتے ہیں وہاں سے چھٹی مکمل ہونے کے بعد حاضری کے بعد پھر دوبارہ لمبی چھٹی پر چلے جاتے ہیں جس سے دفتری نظام تباہ ہے تاہم سروس رولز میں دوہری شہریت کے حامل افراد پر ملازمت کرنے کی پابندی نہیں ہے جس کی وجہ سے کئی دوہرے پاسپورٹ کے  حامل آفیسران اور ملازمین دوہرے مزے لے رہے ہیں جب جی چاہا بیرون ممالک چلے جاتے ہیں اور من مرضی پر آزادکشمیر آتے ہیں اس کے علاوہ آزادکشمیرکے عبوری آئین 1974ء میں بھی دوہری شہریت کے حامل کسی شخص کے ممبر اسمبلی بننے پر پابندی نہیں ہے۔آزادکشمیر اسمبلی میں اس وقت کم از کم 6ممبران اسمبلی دوہری شہریت کے حامل ہیں جن میں قائد حزب اختلاف اور ایک وزیر بھی شامل ہیں۔جبکہ پاکستان میں دوہری شہریت رکھنے والوں کو عدلیہ،مقننہ یا انتظامیہ میں کسی جگہ ذمہ داریاں سونپنے کی اجازت نہیں ہے۔آئینی ماہرین کے مطابق ایکٹ 74میں ترامیم کے بعد ممکنہ طورپر دوہری شہریت والوں کے لیے قانون سازی ممکن ہے۔