مقبوضہ کشمیر6شہدا سپرد خاک،جھڑپوں میں ایک اور نوجوان شہید،متعدد زخمی

 سرینگر(اے این این )  مقبوضہ کشمیر  کے ضلع شوپیاں  میں  بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تمام 6شہداء کو سپرد خا ک کر دیا گیا ہے  جبکہ تازہ جھڑپ میں ایک اور نوجوان شہید ہو گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مطابق اونتی پورہ کے لیتہ پورہ ہٹی وارہ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران جیش محمدسے وابستہ ایک جنگجو جاں بحق ہوا ہے جبکہ جھڑپ میں ایک ایس او جی اہلکار معمولی زخمی ہوا ۔ اونتی پورہ سے چند کلومیٹر دور لیتہ پورہ کے نزدیک ہٹی وارہ گاوئں میں شام ساڑھے چھ بجے کے قریب 50 آر آر  اور ایس او جی اونتی پورہ نے محاصرے کیا۔پولیس نے بتایا جب فورسز نے تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی دوران  غلام محی الدین ڈار نامی ایک شہری کے مکان کے نزدیک ایک جنگجو نے فائرنگ کی جس کے بعدطرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو مختصر وقفے کے لئے جا ری رہا ۔بعد میںپولیس نے جھڑپ کی جگہ سے جیش کمانڈر مفتی وقاس ساکن پاکستان کی لاش بر آمد کی۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں ایک ایس او جی اہلکار بھی معمولی طور زخمی ہوا ۔ فوج کے ترجمان نے پنے بیان میں دعوی کیا کہ مذکورہ جنگجو جموں کے سنجواں فوجی کیمپ فدائین حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا جس کی ہلاکت فوج کے لئے بڑی کامیابی ہے۔ مقامی لوگوں نے بھارتی فوج کے الزام کو مسترد کیا ہے ۔ دریں اثناء  گزشتہ روز شوپیاں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے تمام نوجوانوں  کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔نکی نماز جنازہ  میں شرکت کی اور شوپیان کے اس پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ادھر مقامی لوگوں نے فوج کے اس دعوی کو مکمل طور پر مسترد کیا کہ مارے گئے عام شہریوں میں کوئی جنگجوئوں کا بالائی زمین ورکر تھا۔ شوپیاں کے گاؤں پہنو میں  بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے گئے   عاشق حسین بھٹ  ولد محمد اسحق کو اس کے آبائی گاؤں  پورہ کاپرن ،عامر ملک  ولد بشیر احمد کو حرمین  میں ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ سہیل خلیل وگے ولد محمد خلیل وگے ساکن پنجورہ،نواز احمد وگے ولد علی محمد وگے ساکن لگن ڈورہ ترینج اورشاہد احمد خان ولد بشیر احمد خان ساکن ملک گنڈ شوپیان  کو بھی ان کے آبائی  قبرستانوں میں سپرد  خاک کیا گیا۔شہداء کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اسی طرح گوہر احمد لون  ولد عبدالرشید  لون  کو مولو چترا گام میں  سپرد خاک کیا گیا ۔عامر ملک کی نماز جنازہ پانچ بار ادا کی گئی ۔کے بطور کی گئی تھی۔لوگوں نے مزید بتایا کہ دوسری طرف سے ایک ویگنار گاڑی آرہی تھی، جو جائے وقوع سے قریب 250فٹ دور تھی، اور ڈرائیور نے گاڑی کو واپس موڑنے کی کوشش کی اور اس پر بھی فائرنگ کی گئی اور وہ گاڑی کے اندر ہی مارا گیا، جس کی لاش صبح کے وقت چند گوجر مزدوروں نے دیکھی اور گائوں والوں کو اس کی اطلاع دی جس کے بعد لاش کو گاڑی سے باہر لایا گیا۔ بعد میں اسکی شناخت گوہر احمد لون ولد عبدالرشید لون ساکن مولو چتراگام کے بطور ہوئی۔عاشق حسین بٹ ولد محمد اسحاق بٹ ساکن رکہ پورہ کاپرن شوپیان کی عمر 29 سال تھی۔عاشق حسین نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی اور اسکے بعد وہ شوپیان میں دکان چلاتا تھا ۔شہداء کو مجاہدین  کے ایک دستے نے سلامی بھی دی ۔سہیل خلیل وگے ولد محمد خلیل وگے ساکن پنجورہ شوپیان کی عمر24سال تھی۔سہیل کے اہل خانہ کے مطابق وہ اپنے 2دوستوں سمیت اپنی گاڑی میں ماں کو  میکے چھوڑ کر پہلے سڈکو لاسی پورہ میں کولڈ سٹور میں رکھے میوہ کو دیکھنے کیلئے گیا اور پھر واپس آرہا تھا کہ اسکی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ سہیل احمد بارہویں جماعت کے پرائیوٹ امتحانات کی تیاری کررہاتھا اور ساتھ ہی اپنے بھائی کے سیب کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتا تھا۔سہیل کے رشتہ داروں نے مزید کہا کہ سہیل کافی محنتی تھا اور اسکا کسی بھی تنظیم کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ سہیل کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور سہیل کی چار بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسکے آبائی مقبرہ پنجورہ میں سپرد خاک کیا گیا۔وہ اپنے پیچھے ماں باپ اور تین بھائیوں کو چھوڑ کر چلا گیا ہے۔دوسرے شہری نواز احمد وگے ولد علی محمد وگے ساکن لگن ڈورہ ترینج شوپیان کی عمر 26 تھی۔ رشتہ داروں کے مطابق  نواز احمد اپنے ہی گاوں میں کریانہ کی دکان چلاتا تھا۔ نواز اور سہیل آپس میں دوست تھے۔اور نواز انکے باغیچے میں کام بھی کرتا تھا۔نواز کی نمازہ جنا زہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور انکی آٹھ بار نماز جنا زہ ادا کی گئی۔نواز کے گھر میں نواز کا ایک بھا ئی ،دو بہنیں اور ماں باپ ہیں۔ تیسرے نوجوان شاہد احمد خان ولد بشیر احمد خان ساکن ملک گنڈ شوپیان کی عمر19 برس تھی۔شاہد12ویں کا طالب علم تھا۔رشتہ داروں کے مطابق شاہد کرکٹ کھیل کر اپنے دوستوں کے ساتھ گیا ہوا تھا ۔ شاہد کے آخری سفر میں کافی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور شاہد کا 10 بار نماز جنازہ ادا کی گئی ۔شاہد کے گھر میں شاہد کا ایک بھائی ، دو بہنیں اور ماں باپ ہے۔چوتھے نوجوان گوہر احمد لون ولد عبدالرشید لون ساکن مولو چتراگام کی عمر  24 تھی۔اہل خانہ کے مطابق گوہر مولو چتراگام میں باغبانی ادویات کی دکان چلا رہاتھا  اوروہ شوپیان سے اپنی گاڑی میں واپس آرہا تھا جب وہ  فوج  کی گولیوں کا نشانہ بنا۔گوہر کے رشتہ داروں نے مزید کہا کہ گوہر کو اسکی ویگنار کار سے باہر نکالا گیا تھا اور اسکے بعد اسے مار دیا گیا اسکے بعد گوہر کی گاڑی پر بھی فائر کئے گئے تھے۔گوہرکی پانچ با ر نماز جنا زہ ادا کی گئی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گوہر کی گاڑی میں خون کے دھبے نہیں تھے۔ دریں اثناء مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس کی جانب سے شوپیان میں کیا گیا قتل عام جموں کشمیر میں بھارتی جمہوریت کا سفاک چہرہ واضح کررہا ہے۔آر ایس ایس کی پشت پناہی میں قائم پی ڈی پی حکومت اور دوسرے ہند نواز سیاست کار اور انکی جماعتیں اس قتل عام کی اصل ذمہ دار ہیں۔ مزاحمتی قائدین نے کہا ہے کہ لوگ(آج)  بدھ 7 مارچ کو شوپیان کے شہدا کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے شوپیان کا رخ کریں گے جبکہ اسی دن حسبِ اعلان اسیروں کی سرینگر سے جموں منتقلی کے خلاف مکمل ہڑتال بھی کی جائے گی۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ اس قتل عام کیلئے یہ ہند نواز سیاست دان ،انکی جماعتیں اور سوچ براہ راست ذمہ دار ہیں اور مکافات عمل کے ابدی قانون کے تحت انہیں اپنے ان جرائم کا حساب دینا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قابضین کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات سرکاری کشمیر کو ایک ایسے ذبح خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں جوانوں، بچوں ،بزرگوں یہاں تک کی خواتین کی زندگیوں کو بھی بے دریغ چھینا جارہا ہے۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ کشمیریوں کے لہو کے اس ارزانی کیلئے دراصل جملہ ہند نواز کشمیری سیاست دان براہ راست ذمہ دار ہیں کیونکہ یہی ہیں کہ جو اسمبلیوں ،پنچایتوں اور پارلیمان کے ایوانوں میں جاکر وہ قوانین بناتے ہیں جو قاتلوں اور مجرموں کو کسی بھی مواخذے سے استثنا فراہم کرکے انہیں انسانوں کا بے دریغ لہو بہانے کی شہہ فراہم کرتے ہیں۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ شوپیاں میں ایک ماہ قبل تین نہتے شہریوں کے قتل میں ملوث فوج کے میجر کیخلاف پولیس کی طرف سے درج کئے گئے ایف آئی آر کے تحت مزید کسی کارروائی پر بھارت کے سپریم کورٹ کی جانب سے روک لگانا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ماضی کے تجربے کے تحت کشمیری عوا م کو نہتے شہریوں کی فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں ارادتا قتل پر انصاف ملنے کی کوئی توقع ہے انہوں نے اعلان کیا کہ شوپیان کے شہدا کو شایان شان طریقے پر خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے مشترکہ قیادت سے وابستہ  قائدین کی سربراہی میں لوگ(آج)  بدھ کو شوپیان کی جانب مارچ کریں گے اور شوپیان میں ان شہدا کیلئے اجتماعی دعائیہ مجلس میں شرکت کریں گے جبکہ اسی دن حسب اعلان سابق کشمیری اسیروں خاص طور پر عمر قید کی سزا میں قید افرادکی سرینگر جیل سے جموں منتقلی کے خلاف بھی ایک مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال بھی کی جائے گی۔ادھرشوپیان قتل عام جس میں چھ کشمیری معصومین کوجاں بحق جبکہ درجنوں کو زخمی کردیا گیا ہے ،کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے محمد یاسین ملک کی سربراہی میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین نے لال چوک سرینگر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی ۔احتجاج میںخواتین بھی شامل تھیں ۔ شوپیان قتل عام کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کرتا ہوا یہ جلوس آگے بڑھا۔ بڈشاہ چوک میں پولیس اور فورسز نے یاسین ملک اور دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا اور جلوس کو تتر بتر کردیا۔جس دوران محمد یاسین ملک کو بشیر احمد کشمیری، غلام محمد ڈار، محمد صدیق ہزاری،ساحل احمد وار، فاروق احمد شیخ وغیرہ کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا ۔یاسین ملک کو بعدازاں بشیر احمد کشمیری اور غلام محمد ڈار کے ساتھ 10 مارچ تک کیلئے عدالتی تحویل پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ۔یہ بات واضح رہے کہ سید علی گیلانی حسب دستور خانہ نظر بند ہیں جبکہ پولیس نے میرواعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی، محمد اشرف لایا،بلال احمد صدیقی وغیرہ کو خانہ نظر بند کردیا ہے جبکہ عمر عادل سمیت کئی دوسرے لوگوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں مقید کردیا گیا ہے۔ادھر مختلف مقامات پر مظاہروں کے دوران  بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو ئے ہیں ۔وادی میں ہڑتال اور احتجاج کے باعث  کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے  جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس  معطل رہی۔ریل سروس کو بھی بند رک دیا گیا ہے جبکہ سکولوں اور کالجوں سمیت تعلیمی اداروں کو بھی دو روز کیلئے بند کر دیا گیا ہے ۔ریاستی محکمہ تعلیم نے  6 اور 7مارچ کوبھی کشمیروادی میں اسکول اورکالج بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران کے اے ایس کے چار پرچوں کے امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔کشمیریونیورسٹی اور ریاستی پبلک سروس کمیشن نے پہلے ہی کہا ہے کہ6اور7مارچ کے امتحانات ملتوی کئے گئے ہیں۔شوپیان کے پہنوگائوں میں پیش آئے واقعہ کے تناظر میں ہڑتال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرریاستی سرکارنے سوموارکی صبح پوری وادی میں تمام اسکول اورکالج بندرکھنے کے احکامات صادرکردئیے تھے۔سیکرٹری محکمہ تعلیم فاروق احمدشاہ نے مزید کہا ہے کہ  6اور7مارچ کوبھی اسکول اورکالج بندرہیں گے۔ ،ترجمان کشمیریونیورسٹی اورچیئرمین پبلک سروس کمیشن لطیف الزماں دیوانے بتایاکہ 6اور7تاریخ کوبورڈ آف اسکول ایجوکیشن ،کشمیریونیورسٹی اور ریاستی پبلک سروس کمیشن کی جانب سے لئے جانے والے سبھی امتحانات کوملتوی کیاگیا۔ دریں اثناء   مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظرمکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ دکان،کاروباری وتجارتی مراکز اور پیٹرول پمپ بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل مسدود ہوکر رہ گئی۔ہڑتال کی وجہ سے بیشتر سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بھی بند رہے اور ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔وسطی ضلع بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی،جبکہ تجارتی مراکز،دکانیں اور کاروباری ادارے بھی بالکل مقفل تھے،اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدرفت نہ ہونے کے برابر تھی۔گاندربل سے نمائندہ ارشاد احمد کے مطابق ضلع گاندربل میں مکمل طور پر ہڑتال رہی۔گاندربل،تولہ مولہ ، صفاپورہ ، کنگن سمیت دیگر علاقوں میں بھی دوکانیں،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی۔تحصیل کنگن اور تحصیل گنڈ میں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑک پر گاڑیوں کی آمد رفت متاثر رہی ۔ہڑتال کال کی وجہ سے سرکاری اور غیر سرکاری اسکول بند رہے۔ نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق اننت نا گ ،اچھ بل ، ویری ناگ ، ککرناگ عشمقام ،آرونی اورڈورو میں مکمل بند رہا جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔کولگام سے نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کھڈونی ،کیموہ ،یاری پورہ ،دیوسر ،قاضی گنڈ اور دھدمحال ہانجی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی اور فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ پلوامہ،پا نپور، کھریو، شوپیان، ترال، اونتی پورہ ، پلوامہ ،لاسی پورہ شاہورہ ا ور کاکہ پورہ وغیرہ کے مقامات پردکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر ہوکر رہ گئی تھی ۔ ضلع پلوامہ اور شوپیاں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے خاموشی چھائی رہی۔ نامہ نگار غلام محمد کے مطابقسوپور میںمعمولات زند گی درہم برہم ہوکے رہ گئی ۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بندرہے ۔ بارہمولہ میں دکانیں ،کاروباری ادارے اور اسکول و دفاتر بند رہنے سے ان علاقوں کی سڑکوں پر سکوت رہا اور بازار ویران پڑے رہے۔ نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈ ی پور ہ ،سمبل ،حاجن،صدر کوٹ بالا اور دیگر مقا ما ت پر ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے ۔کپوارہ سے اشرف چرا غ نے اطلاع دی ہے کہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی تاہم ٹریفک کی نقل و حمل جزوی طور معطل رہی ۔ضلع کے ہندوارہ ،کپوارہ ،ترہگام ،کرالہ پورہ اور دیگر مقامات پر دکانیں بند رہیں اور کارو باری ادارے بند رہے تاہم پورے ضلع میں ٹریفک کی نقل و حمل بھی جزوی طور طور معطل رہی ۔شہری ہلاکتوں اور ہڑتال کے بیچ حکومت نے وادی بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ سہولیات کو بھی سست کیا۔ایک منتظم نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کو 128 kbpsکر دیا گیا ۔اس دوران پہلے شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں موبائل انٹرنیت سہولیات کو مکمل طور پر منقطع کیا گیا،اور بعد میں پورے جنوبی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا۔اس دوران ریل انتظامیہ نے بانہال بارہمولہ ریل سروس کو بند کر دیا ۔