کوہالہ خواتین پر پولیس تشدد کیخلاف سینکڑوں افراد کا مظاہرہ
کوہالہ (نمائندہ کشمیر ٹوڈے)گجرکوہالہ میں واپڈا کے ظلم اور گزشتہ دنوں خواتین پر ہونے والی پولیس گردی کے خلاف سینکڑو ں متاثرین کا مظاہرہ ۔مظاہرین نے واپڈا حکام اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ اگر معاوضہ جات کی منصفا نہ تقسیم اور قومی منصو بے کے عوض 200بیڈ کا ہسپتال ، 60کنال کا کھیل کا میدان اورما ڈل کالج تعمیر نہ کیا گیا تو تاریں اکھاڑ کر پھینک دیں گے ۔ پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں مگر قومی منصوبے کے نام پر ہماری خواتین کی بے حرمتی اور ظلم و ستم کا بازار بند کیا جائے ۔ لوگ بے گھر ہو رہے ہیں ۔ زمینیں تباہ ہو رہی ہیں کو ئی پوچھنے والا نہیں ۔ حکومت پاکستان متبادل زمینیں اور عالمی معیار کے مطابق معاوضہ جات کی ادائیگی یقینی بنائے ۔سابق امیدوار اسمبلی غربی باغ مختیار عباسی ، فارق گردیزی ، ارشاد عباسی ، حاجی اصیل ندیم عباسی اور دیگر کا خطاب ۔ تفصیلات کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے متاثرین نے گزشتہ دنوں گجر کوہالہ بانڈی کے مقام پر خاتون پر ہونے والی پولیس گردی اور معاوضہ جات کی عدم فراہمی کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں کوہالہ تا سیری بانڈی سینکڑو ں افراد نے شرکت کی ۔ احتجاجی مظاہرہ بعد از نمازِ جمعہ شروع ہوا اور تین گھنٹے تک جاری رہا ۔مظاہرے کے دوران متاثرین نے واپڈا ، تحصیل انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اس موقع پر کسی قسم کے غیر معمولی واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس بڑی تعداد میں موجود رہی ۔ احتجاجی جلسے سے سابق امیدوار اسمبلی مختیار عباسی ، سماجی شخصیت فاروق گردیزی، افتخار عباسی ، ارشاد خان عباسی ، عباذ عباسی ، حاجی محمد اصیل خان ، زیاد احمد قادری ، ندیم عباسی و دیگر نے خطاب کیا ۔مختیار عباسی کا کہنا تھا کہ منصوبے کی شروعات سے پہلے واپڈا کے اعلیٰ آفیسران اور نیلم جہلم پراجیکٹ کے سی ای او جنرل زبیر نے یقین دلایا تھا کہ اس ٹرانسمیشن لائن کے متاثرہ علاقے میں 200بیڈ کا ہسپتال بنائیں گے تحریر معاہدے کے باوجود آج تک اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا ۔ دوسری جانب نوجوانوں کے لیے 60کنال پر کرکٹ گرائونڈ کی تعمیر جاری تھی کہ اس کے گرائونڈ کی حدود میں واپڈا نے ٹرانسمیشن لائن کے پول نصب کر کے اسے نا قابل استعمال بنا دیا جس کے لیے بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ دوبارہ تعمیر کر کے دیا جائے گا مگر اس پر بھی عمل در آمد نہیں ہو سکا ۔ گزشتہ روز ایک متاثرہ شخص اپنی جان پر کھیل کر پول پرچڑھا اور احتجاج کیا جس پر اسے حق ملا ۔ جن کے بچے بیرون ملک ہیں یا ان کا کوئی نہیں ہے انہیں حق کون دے گا ۔ متاثرہ لوگوں کی زمینوں ، درختو ں ، پولز کی حدود سمیت گھروں کے معاوضہ جات نہیں دئیے جا رہے ۔ ذاتی پسند نا پسند پر ادئیگیاں کی جارہی ہیں ۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سے بڑھ کر پاکستانی ہیں مگر ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے ۔ قومی منصوبے کے نام ہماری عزتوں کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جا ئے ۔ چند لوگوں کے گھرو ں اور زمینوں کو تباہ کر کے قومی منصوبے نہیں لگتے ۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق معاوضہ جات اور متبادل زمینیں مہیا کی جائیں ۔ لوگ بے گھر ہو رہے ہیں زمینیں تباہ ہو رہی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ انتظامیہ سے بھی شکوہ ہے کہ ہماری داد رسی کے بجائے واپڈا کا تحفظ کیا جا رہا ہے ۔ اگر حقوق نہ دئیے گئے تو پولز اور تاریں اکھاڑ پھینکیں گے ۔ اداروں کے خلا ف بات نہیں کرنا چا ہتے مگر اپنے حقوق کے خلاف سودے بازی نہیں کریں ۔ لوگوں کو خریدنے کا سلسلہ بند کیا جا ئے ۔ اصل متاثرین کو حق دئیے جائیں ۔
