نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ کے مقام ورکرز کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا
مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ میں کام کرنے والے مقامی ورکرز کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔10سالوں کے دوران پراجیکٹ میں کام کرتے ہوئے درجنوں ورکرز نے جان کی قربانی دی اور بڑی تعداد میں زخمی ومعذور ہوئے ۔متاثرین پراجیکٹ سے تعلق رکھنے
والے ہزاروں تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ورکرز کو نوکری سے فارغ کر کے غیر مقامی اور غیر ریاستی افراد کو بھرتی کیا جانے لگا۔متاثرہ ورکرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔وزیر اعظم پاکستان ،چیف آف آرمی سٹاف ،چیئرمین واپڈا ،وزیر اعظم آزادکشمیر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرہ ورکرز نے کہا کہ پراجیکٹ کیلئے جانی و مالی قربانیاں دینے کے باوجود اور عرصہ آٹھ دس سال کام کرنے کے باوجود فارغ کر کے باہر سے افراد کو بھرتی کرنا ظلم و ناانصافی ہے ۔عوامی لیبر یونین نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کے جنرل سیکرٹری محمد عمران خان نے کہا کہ 2008سے آج تک پراجیکٹ میں بیس ہزار سے زائد مقامی ورکرز جن کا تعلق متاچرین سے ہے میں خدمات دیتے رہے ہیں اور ان لوگوں کی محنت اور کام سے اب پراجیکٹ کا افتتاح ہونے جا رہا ہے ۔لیکن پراجیکٹ میںاب ان تجربہ کار اور تعلیم یافتہ ورکرز کو نظر انداز کر کے باہر سے غیر مقامی اور غیر ریاستی ورکرز کو تعینات کیا جا رہا ہے ۔جو مقامی متاثرہ ورکرز کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان ،چیف آف آرمی ستاف ،چیئرمین واپڈا،وزیر اعظم آزادکشمیر سمیت ذمہ داران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی تو احتجاج پر مجبور ہونگے ۔
