نیلم میں جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ،قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش
نیلم(بیورورپورٹ)نیلم میں جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ،پولیس کی معنی خیز خاموشی لمحہ فکریہ کچھ عرصہ سے خواتین کو جنسی تشدد ،ہراساں،موبائل فون کے ذریعے بلیک میل کرنے ،ذیادتی کا نشانہ بنانے سمیت دیگر واقعات رونما ہورہے ہیں جو کہ قبل ازیں نیلم میں انتہائی کم تعداد میں شمار کیے جاتے تھے مسلسل تعداد بڑھنے کے باوجود پولیس اور اداروں کی معنی خیز خاموشی لمحہ فکریہ ہے ان مقدمات میں سے صرف ایک یا دو مقدمے باقاعدہ درج ہوئے جبکہ دیگر مقدمات کا اندراج نہ ہونا معاشرتی برائیوں کی تعداد میں اضافے کا موجب بن رہا ہے پولیس کی طرف سے معاملات کو مقامی جرگہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود حصہ بٹورکر خاموش ہو جاتے ہیں نیلم جو کہ لائن آف کنٹرول سے متصل ہونے کے باعث حساس خطہ ہے جہاں پر جرائم کی شرح میں اضافہ باعث تشویش ہے جرائم پیشہ افراد کی سیاسی پشت پناہی جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب ہے اداروں کی کمزور گرفت کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد دندنداتے پھر رہے ہیں ایسے میں بالخصوص نوجوان نسل معاشرتی برائیوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں قوم کی بیٹیوں کی عصمت دری جیسے سنگین واقعات کی رونمائی پر عوامی حلقوں سول سوسائٹی ، اور دیگر کی تنظیمات طرف سے شدید رد عمل پایا جارہا ہے۔ڈپٹی کمشنر نیلم ۔، ایس پی نیلم سمیت دیگر انتظامیہ اور ادارے فوری ایکشن لیں جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی ناقابل قبول ہے۔
