شوپیاں شہادتوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری،جھڑپوں میں 7افراد زخمی،قاضی یاسر ساتھیوں سمیت گرفتار

سرینگر(اے این این )  مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں  6نوجوانوں کی شہادت  کے بعد پانچویں روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری  ،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 7افراد زخمی ،قاضی یاسر ساتھیوں سمیت گرفتار،شہری ہلاکتوں ،ننھی آصفہ کے قاتلوں کو بچانے اور قیدیوں کی بیرون ریاست منتقلی کے خلاف بھی  احتجاجی مظاہر ے اور جھڑپیں کئی افراد زخمی  ،پیلٹ لگنے سے ایک نوجوان آنکھ سے محروم ، قابض فورسز کا مجاہدین کی آڑ میں گنا پورہ  کا محاصرہ، گھر گھر تلاشی،اہل خانہ پر تشدد،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ،وادی  میں حالات کشیدہ ، حریت قیادت  بدستور زیر حراست،میر واعظ عمر فاروق رہا  ،کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند،سکول نہ کھل سکے،انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی معطل،ریل سروس چار روز بعد بحال کر دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق شوپیان میں 5روز سے ہڑتال بدستور جاری ہے۔اس دوران کئی مقامات پر جھڑپوں کے دوران پیلٹ سے 7افراد مضروب ہوئے جن میں ایک کی آنکھوں کو پیلٹ لگے اور اسے سرینگر منتقل کردیا گیا۔6نوجوانوں کی شہادت پر ضلع شوپیان میں مسلسل پانچویں روز بھی احتجاجی و تعزیتی ہڑتال سے معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی بدستور پانچویں دن بند رکھی گئی۔ضلع میں تمام دکانیں،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور غائب رہا۔ 4 مارچ کی شام پہنو شوپیان میں فوج کی موبائل چیکنگ کے دوران 2جنگجووں کے علاوہ 4 عام شہری مارے گئے تھے۔اس واقعہ کے خلاف پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ ضلع پلوامہ میں اگرچہ جمعرات کو ہی حالات میں سدھار آیا اور روز مرہ کی زندگی پٹری پر لوٹ آئی تاہم بنا کسی کال کے شوپیان میں مسلسل پانچویں روز بھی ہڑتال جاری رہی۔ ادھر امام صاحب، سوفر نامن اور میمندر میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے دوران پتھرائو اور شلنگ کی گئی۔سوفر نامن میں تصادم آرائی میں پیلٹ سے 7افراد مضروب ہوئے جن میں مشتاق احمد ملک  کی آنکھوں کو پیلٹ لگے اور اسے سرینگر لیا گیا۔سوفر نامن میں فورسز نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ دریں اثناء نامساعد حالات کے پیش نظر چار د نوں تک بند رہنے والی ٹرین سروس معطل رہنے کے بعد  گزشتہ روز  خدمات  بحا ل ہوئیں۔ شوپیاں میں  عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد جنوبی کشمیر میں حالات انتہا ئی کشید ہ بنے اور احتیاطی طورانتظامیہ کی ایڈوائزری پر چار دنوں تک وادی میں سروس معطل کردی گئی تھی۔گذشتہ روز سرینگر، بانہال ٹرین سروس چالو کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اننت ناگ اور بجبہاڑہ علاقوں میں ٹرین پر پتھرائو کے واقعہ کی وجہ سے اسے دوبارہ معطل کرنا پڑا تھا۔ جمعہ کو حالات معمول پر آ نے کے بعد چوتھے دن وادی بھر میں سروس بحال کردی گئی اور اس طرح بارہمولہ با نہال ٹرین سروس اپنی پٹر ی پر لوٹ آ ئی اور سینکڑوں کی تعداد میں مسا فرسفر کرکے اپنے اپنے منزلوں تک پہنچ گئے۔ادھر بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے گناپورہ لنگیٹ کااچانک کریک ڈائون کرکے فوج اورفورسزنے گھرگھرتلاشی کارروائی عمل میں لائی تاہم اسکے بعدمحاصرہ ختم کیاگیا۔رات ساڑھے11بجے فوج کے 21آرآر،سی آرپی ایف اور ریاستی پولیس کی ٹاسک فورس ونگ کے اہلکاروں نے تحصیل لنگیٹ کے گناپورہ علاقہ کواچانک محاصرے میں لیکرتلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ اچانک فوج ،فورسزاورٹاسک فورس اہلکاروں نے پورے علاقہ کوچاروں اطراف سے سیل کرنے کے بعدگھرگھرتلاشی کارروائی شروع کی ،جس دوران مقامی لوگوں کے شناختی کارڈبھی دیکھے گئے اورکچھ افرادسے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ۔لوگوں نے بتایاکہ لگ بھگ3گھنٹے تک کریک ڈائون اورتلاشی کارروائی جاری رہی اوراس دوران کسی بھی شخص کوگائوں کی حدودسے باہرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔قابض اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی کے دوران اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی ۔جس پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔وادی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں ۔نظر بند اور تھانوں میں قید حریت رہنماؤں کو رہا نہیں کیا گیا تاہم گزشتہ روز میر واعظ عمر فاروق کو رہا کر دیا گیا ۔کسی کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ادھرامت اسلامی  کے چیئر مین میر واعظ جنوبی کشمیر ڈاکٹر قاضی یاسر کو شوپیاں جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے  ۔میر واعظ قاضی یاسر امت اسلامی کے زعما وحید احمد خان اور بلال احمد میر سمیت پنجورہ جا رہے تھے جہاں انہیں نماز جمعہ کے بعد شوپیاں ہلاکتوں پر احتجاج کرنا تھا ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے ۔ امت اسلامی کے ترجمان نے میر واعظ قاضی یاسر کی گرفتاری کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ ترجمان اعلی نے شوپیاں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات بھارتی انسانی حقوق کی حفاظت کے دعوے کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ ترجمان نے کہا پہلے لوگوں کوجنگجو کے نام پر مارا گیا، پھر ایجیٹیشنل دہشتگردبتا کر گولیاں برسائیں گئیں اور اب OGWنام پر مارا جا رہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ ترجمان نے کہا کہ قید و بند اور ظلم و جبرکے باوجود عوام کے حوصلے بلند ہیں۔انہوں نے NIAمیں قید زعما اور کارکنوں کی رہائی کی مانگ کی۔دریں اثناء شوپیاں شہری ہلاکتوں،قیدیوں کو بیرون ریاست جیلوں میں منتقل کرنے اور معصوم بچی آصفہ کے قاتلوں کو بچانے کے خلاف مائسمہ،شہر خاص،حیدرپورہ اور نارہ بل میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران راجوری کدل اور برین نشاط میں مظاہروں کے دوران ٹیر گیس شلنگ اور سنگبازی کے واقعات پیش آئے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے شوپیاں ہلاکتوں اور قیدیوں کو بیرون ریاست جیلوں میں منتقل کرنے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال کے دوران راجوری کدل میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،جس کے دوران فورسز اور پولیس پر سنگبازی کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے راجوری کدل سے اسلامیہ اسکول تک زبردست ٹیر گیس شلنگ کی،جس کی وجہ سے فضا میں ہر سو دھواں ہی دھواں نظر آیااوردھویں کی وجہ سے دم گھٹنے سے ایک خاتون مبینہ اشرف بٹ بے ہوش ہوگئی،جس کو نزدیکی صدر پہنچایا گیا۔تاجروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے سامان کو تہس نہس کیا۔انہوں نے کہا کہ فورسز اور پولیس کے سامنے جو بھی کوئی چیز آئی،اس کو نقصان پہنچایا گیا،جبکہ دکانداروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ دکانوں میں موجوداشیا کی بھی توڑ پھوڑ کی گئی اور ایک دکاندار فروض احمد ولد غلام احمد بٹ جو کہ میوہ فروش تھا کو بھی گرفتار کیا گیا۔ادھر نوہٹہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد معمولی سنگبازی ہوئی۔اس دوران برین میں بھی نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے احتجاج کیااور مقامی فورسز کیمپ کو سنگبازی کا نشانہ بنایا۔فورسز نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے ٹیر گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائرنگ کی،جس کی وجہ سے2افراد معمولی زخمی ہوئے۔علاقے میں وقفہ وقفہ سے شام تک اسی طرح کی صورتحال جاری تھی۔اس دوران تہاڑ جیل میں کشمیری اسیروں کی بدترحالت زار کو اجاگر کرنے کیلئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبریشن فرنٹ کے لیڈروں اور کارکنوں کے علاوہ دیگر لوگوں نے مائسمہ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے اوربڈشاہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔یہ احتجاج کشمیری اسیروں کی جموں منتقلی،ننھی آصفہ کے قاتلوں کو بچانے اور شوپیان کے قتل عام کے خلاف کیا گیا۔ احتجاجی ریلی کی قیادت فرنٹ کے نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی کررہے تھے جبکہ احتجاج میں فرنٹ کے زونل صدر نور محمد کلوال ، مشتاق اجمل ،سراج الدین میر، شیخ عبدالرشید، ظہور احمد بٹ، محمد یاسین بٹ ،محمد صدیق شاہ، مشتاق احمد خان، پروفیسر جاوید ، شمیم احمد آخون ،معراج الدین پرے اور دوسرے کئی لوگوں نے شرکت کی۔اس دوران حید پورہ کی جامع مسجد کے صحن میں نماز جمعہ کے بعد حریت(گ) لیڈر اور کارکن جمع ہوئے اور بینئر و پلے کارڑ اٹھا کر احتجاج کیا۔احتجاج میں محمد یوسف نقاش، نثار حسین راتھر، محمد شفیع لون، محمد سلیم زرگر، خواجہ فردوس، مولوی بشیر احمد عرفانی، سید بشیر اندرابی، اشفاق احمد خان، رمیز راجہ، امتیاز احمد شاہ، یاسمین راجہ، ظہور احمد بیگ، محمد شفیع میر، عبدالاحد، عبدالرشید بیگ، عاصف راجہ اور دیگر کارکنان اور عوام کی خاصی تعداد شامل تھی۔ اس موقع پر قائدین نے سرینگر سینٹرل جیل سے محبوسین کو ریاست کی باہری جیلوں میں منتقل کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں واپس ریاست کی جیلوں میں منتقل کرنے پر زور دیا۔ادھرنوہٹہ میںنماز جمعہ کے بعدمرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر درجنوں مزاحمتی قائدین اور کارکنوں نے سرکاری ظلم و جبر اور کشمیری عوام کیخلاف جاری جارحیت کیخلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ادھراسلامک پولیٹکل پارٹی کے لیڈران شوکت احمد خان، محمد ایوب ڈار، مظفر احمد بٹ، غلام محمد بٹ، علی محمد بٹ، علی محمد گنائی، سجاد احمد لون اور دیگر پارٹی کارکنان نے ناربل میںیک پر امن ریلی کا انعقاد کیا ۔