جنوبی باغ،حکام نے تعلینی پالیسی کی آڑ میں اساتذہ کی ترقیاں روک دیں

جنوبی باغ(سپیشل رپورٹر)اعلیٰ تعلیمی حکام نے نئی تعلیمی پالیسی کو آڑ بنا کر ہزاروں اساتذہ کی ترقی کی راہیں روک دیں۔ اعلیٰ حکام قذاق بن گئے۔ نا تجربہ اور جونیئر ترین منظور نظر افراد کو ترقیاب کرنے کے لیے رولز 2016کا نفاذ کیا گیا ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ جو لوگ ایم اے ایجوکیشن اور ایم ایڈ کو الگ ڈگریاں عرصے سے سمجھتے آرہے ہیں وہی اب اساتذہ کی ترقیوں کی راہ میں فرعون بن بیٹھے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں رولز 2016کو آڑ بنا کر بیسیوں جونیئر اساتذہ کو صدر معلمین تعینات کیا گیا ہے جس سے ریاست بھر کے ہزارو ں اساتذہ کے اندر بے چینی پائی جارہی ہے۔ اساتذہ کے نمائندوں کے مطابق اگر ان رولز کو نافذ کرنا ناگزیر ہے تو اس کا نفاذ نئی انڈیکشن پر ہونا چاہیے۔ جس کی مثال ایپکا آزاد کشمیر کی حالیہ رٹ پٹیشن پر معزز عدالت کا فیصلہ ہے۔جس نے سماعت کے بعد ایپکا کے دیرینہ ملازمین کے حق میں فیصلہ دے کر انصاف کا بول بالا کیا۔ ایک اور مثال آزاد کشمیر کے جملہ ملازمین کا کشمیر کمپنسٹری الائونس(ہل الائونس )ختم کرنے کا فیصلہ تھا جس میں بعد ازاں یہ ترمیم ہوئی کہ 1994سے قبل کے تعینات ملازمین کا ہل الائونس بحال رکھا جائے گا جو آج تک ملازمین کو مل رہا ہے۔ موجودہ رولز کو بدنیتی سے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور آفیسران حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں لیکن آزاد کشمیر کے ہزاروں اساتذہ صرف اس بات پر مطمئن ہیں کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر کی موجودگی میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو سکتی ۔ جس کی مثال وزیر اعظم آزاد حکومت راجہ فاروق حیدر کے واضع احکامات ہیں جو انہوں نے اساتذہ کے نمائندگان کی موجودگی میں حکام کو جاری کیے۔راجہ فاروق حیدر خان سابقہ حکمرانوں کی طرح مدہوش نہیں جو یہ آفیسران اُن کو ماموں بنا سکیں۔ راجہ فاروق حیدر نے جو کہا وہ کر دکھایا اور نہ صرف اساتذہ بلکہ کشمیر بھر کی عوام اُن کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی محکمہ تعلیم پر خصوصی نظر ہے اور انہوںنے محکمہ کا معیار بلند کرنے کے لیے جو اقدام اُٹھائے ہیں ان کا نتیجہ پاکستان بھر میں ہونے والی تعلیمی رینکنگ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ اگر بیورکریسی وزیر اعظم کا ساتھ دیتی تو آزاد کشمیر کا معیار تعلیم دنیا بھر میں مثالی ہو سکتا ہے۔آزاد کشمیر میںکی جانے والی موجودہ ترقیابیوں میں بے قاعدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک صاحب جن کی ماسٹرز تھرڈ ڈویژن تھی کو ترقیاب کیا گیا جسے بعدا زاں واپس کر دیا کیا ایک اور صاحب جن کی تعلیمی قابلیت مقررہ معیار سے کم تھی اُس کو بھی واپس کر دیا گی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بنا چھان بین کیے منظور نظر افراد کی ترقیابی کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اگر تعلیمی پالیسی کا نفاذ ناگزیر ہے تو خدارا پوری پالیسی کو ایک بار تفصیل سے پڑھا جائے جس میں ضلعی آفیسران، ڈویژنل ڈائریکٹر ز اور ڈائریکٹر زکے لیے بھی تعلیمی معیار مقرر کیا گیا ہے کیا یہ لوگ اس تعلیمی معیار پر پورا اُترتے ہیں اگر جواب نہ میں ہے تو ان کو نئی تعلیمی پالیسی کا لفظ بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تو ایک کہاوت کے مترادف ہے کہ بوٹی بوٹی حلال تے شوربہ حرام۔