نیلم جہلم پراجیکٹ ساڑھے7کھرب کی لاگت سے مکمل

نیلم(بیورورپورٹ) نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پروجیکٹ اٹھ سال کی مدت میں ساڑھے سات کھرب کی خطیر اخراجات کے بعد مکمل۔ پاکستان کے تیسرے بڑے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح اپریل میں ہو گا۔ ٹنل میں ازمائشی طور پر پانی ڈال دیا گیا۔ ٹرانسیمشن لائن کا کام بھی اخری مراحل میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تیسرے بڑے بجلی گھر نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پروجیکٹ کے ڈیم اور ٹنل کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ٹنل میں پانی کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔ نوسیری سے چھتر کلاس تک32 کلومیٹر لمبی ٹنل کی تعمیر تقریباً اٹھ سال میں مکمل ہوئی ہے۔ ڈیم میں پانی جنوری سے بھر دیا گیا ہے۔ ٹنل میں پانی ازمائشی طور پر چھوڑا گیا ہے۔ ایک ماہ کی آزمائشی مدت کے بعد بجلی کی باقاعدہ پیدوار شروع ہو جائے گی۔ پاور ہائوس میں چار ٹربائنیں نصب کی گئی ہیں۔ پاور ہائوس کی گرمیوں میں بجلی کی پیدوار969 میگاواٹ ہو گی جبکہ سردیوں میں کم سے کم پیداوار350 میگاواٹ ہو گی۔ یاد رہے تربیلا منگلا کے بعد نیلم جہلم پاکستان کا تیسرا  پانی سے چلنے والا پاور ہائوس ہے۔ بجلی کے ایک یونٹ کی کاسٹ صرف پانچ پیسے ہو گی۔ سستی بجلی اور لوڈ شیڈنگ میں20 فیصد تک کمی ہو گی۔ لیکن ابھی تک نیلم جہلم پر حکومت ازاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے جس سے ازادکشمیر کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ازادکشمیر میں بجلی کی مجموعی پیداوار چار ہزار سے تجاور کر جائے گی۔