شیری رحمان سینیٹ میں پہلی خاتوں اپوزیشن لیڈر منتخب پی ٹی آئی کو شکست

اسلام آباد(اے بی سی نیوز)پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان سینیٹ میںپہلی خاتون اپوزیشن لیڈر مقرر ہوگئیں جبکہ تمام تر دعوئوں کے باوجود تحریک انصاف عہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ شیری رحمان ایوانِ بالا میں پہلی خاتون حزب اختلاف مقرر ہوگئی ہیں جس کا نوٹیفکیشن چیئرمین سینیٹ کی ہدایت پر سینیٹ سیکریٹریٹ نے جاری کردیا۔نوٹفیکشن کے مطابق شیری رحمان کو ایوان میں حزب اختلاف کے 34 ارکان کی حمایت حاصل تھی۔یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا میں کسی خاتون نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ سنبھالا ہے۔خیال رہے کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد اس وقت 20 ہے اور سینیٹ میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔شیری رحمان نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقررہونے کے بعد اپنا دفتر بھی سنبھال لیا ہے۔یاد رہے کہ شیری رحمان سے قبل پیپلزپارٹی کے ہی سینئر رہنما اعتزاز احسن سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تھے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری نے شیری رحمان کی بطور اپوزیشن تقرری پر کہا ہیکہ پیپلز پارٹی کو اکثریتی ممبران کی حمایت حاصل تھی، شیری رحمان انتہائی قابل پارلیمنٹیرین ہیں، ان کی اپوزیشن لیڈر کے تقرر سے مثبت پیغام جائے گا۔واضح رہے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں اپوزیشن اتحادکے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جب کہ پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر فائز ہوئے،ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار کے لیے پیپلز پارٹی سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کے باوجود سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف نے قائد حزب اختلاف کے لیے اعظم سواتی کو امیدوار نامزد کیا تھا تاہم وہ مقررہ ارکان کی حمایت نہیں حاصل کر سکے۔شیری رحمان ماضی میں امریکہ میں پاکستان کی سفیر اور بینظیر بھٹو کے دورہ حکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدوں پر بھی رہ چکی ہیں۔شیری رحمان کو نومبر دو ہزار گیارہ میں ان کے پیش رو حسین حقانی کے مستعفی ہونے کے بعد سفیر مقرر کیا گیا تھا۔دریں سینیٹ میں نو منتخب اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف سمیت ساری اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گی اور قومی معاملات پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملکر حکمت عملی وضح کی جائے گی حکومت کے سخت احتساب کے لیے ایوان بالا میں موثر  جوابدہی  کا لائحہ عمل بنائیں گے اپوزیشن مذید نئی روایات قائم کرے گی ایوان بالا کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر ہوں توقع ہے کہ ہمیں بھی بھرپور تعاون حاصل ہو گا ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنے تقرر نامہ کی وصولی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا شیری رحمان پاکستان پیپلز پارٹی فاٹا اور بلوچستان کے آزاد اراکین ، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے 33اراکین سینیٹ کی حمایت سے اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئی ہیں میڈیا سے  بات چیت کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے عہدہ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری ، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام  سیاسی جمہوری قوتوں کا شکریہ ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لیکر چلوں کیونکہ ایوان بالا کی فعالیت کی وجہ سے عوام کی بہت زیادہ توقعات اس ایوان سے وابستہ ہیں عوامی معاملات پر اپوزیشن ایوان بالا کو مذید فعال ایوان بنائے گی عوامی معاملات کے لیے سرگرمی سے کام کریں گے حکومت کے سخت احتساب کے لیے موثر جوابدہی کی حکمت عملی وضح کی جائے گی جس طرح قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی قیادت میں اس ایوان کی ساری اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں سینیٹ میں بھی اسی قسم کی صورتحال کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مکمل کوشش ہو گی کہ تحریک انصاف سمیت ساری اپوزیشن جماعتیں ایوان بالا میں عوامی معاملات پر متحد رہیں اور اپوزیشن کے درمیان تعاون کی سازگار فضاء کے لیے مجھ سے جو ممکن ہو گا وہ کاوش کروں گی اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی اجلاس بھی ہوں گے اور اس کا فیصلہ ایوان بالا کے سیشن کا شیڈول جاری ہونے پر کیا جائے گا۔