پیر عبدالظاہربادشاہ کے وصال سے پید اخلا برسوں پُر نہ ہو سکے گا، علماء و مشائخ

اٹک: استاذ العلماء پیر عبدالظاہر رضوی بادشاہ گل کے وصال سے پید اخلا برسوں پُر نہ ہو سکے گا، وہ 70ء کی دہائی میںملے والی امام الشاہ احمد نورانی ؒ کی فکر پر ساری زندگی کاربند رہے،انہوں نے ہزاروں علماء تیار کر کے قوم کو دیئے،ان خیالات کا اظہار پیر عبدالظاہر رضوی کی دینی ، ملی، سیاسی، سماجی ، علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مختلف حلقوں کی مقتدر شخصیات نے کیاجبکہ جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم کے ناظم اعلیٰ انجینئر محمدطیب میلادی سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق الشاہ محمد اویس نورانی صدیقی، پیر سید حسین الدین شاہ ،پیر ضیاء الحق شاہ،پیر سید محفوظ مشہدی بھکھی شریف، سردار محمد خان لغاری،پیر اکرم شاہ گڑھی شریف،پیر عبدالقادر واہ کینٹ،علامہ منیر احمد ہزاروی، مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی،صاحبزادہ حافظ عبدالغفور، سینئر صحافی سردار سکندر خان،علامہ قاری عبدالرحمن چشتی، علامہ اویس ہزاروی، صاحبزادہ حافظ سعیداحمد دریا شریف،ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی اسلام آباد، ڈاکٹر قاضی امجد حسین کاظمی، علامہ محفوظ الرحمن رضوی،علامہ محمدیوسف حقانی،مولانا محمد صدیق قادری پنڈیگھیب، شہزاد احمد چشتی، حاجی غلام قادر پنڈ سلطانی، قاری ابرار حسین قادری، علامہ فتح علی چشتی، قاری غلام جیلانی، حافظ جاوید اقبال رضوی، مفتی محمد عرفان القادری،علامہ ارفاق رضوی، علامہ غلام فرید چشتی،علامہ اللہ دتہ صدیقی،سینئر صحافی ندیم رضا خان،سید قمرالدین شاہ،علامہ محمد ہاشم حقانی، علامہ نورزمان رضوی،مولانا اسحاق نعیمی،علامہ حامد رضا کامرہ، حاجی محمد الیاس ، حاجی محمدالماس حاجی عارف حسین، پیر عطاء اللہ شاہ گیلانی،سید سجاد حسین شاہ باغ نیلاب ،علامہ اظہر محمود اظہری،علامہ شیر احمد قادری، علامہ حنیف رضوی،علامہ اسحاق نظامی، علامہ غلام محمد صدیقی،صاحبزادہ قاری محمد اکرام علوی، علامہ باز جنگ، مفتی عمر فاروق الباروی، قاری شیر محمد بولیانوال، علامہ ظفر اقبال حقانی،قاری محمد یاسر اعوان، حافظ داؤد رضوی سمیت دیگر مذہبی ، سیاسی ، سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے پیر عبدالظاہر بادشاہ ؒ کی دینی ، ملی، سیاسی، سماجی ، علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، انجینئر طیب میلادی کا کہنا تھا کہ پیر عبدالظاہر بادشاہ سے وصال سے قبل مصطفی آباد شریف میںملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ کے سرپرست اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے سالانہ آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا ، تعلیمی کارکردگی پراطمینان کااظہار کیا اور فاضل طلباء کی اسنادپر دستخط کئے، انکی اخری آرام گاہ مصطفی آباد شریف بوٹا میں بنائی گئی۔