اپوزیشن کا پارلیمانی جماعتوں کی مشاورتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنےکا فیصلہ

مانیٹرنگ ڈیسک
اسلام آباد: حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمانی رہنماو¿ں کو دی جانے والی بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو خطوط لکھے گئے تھے جس میں 28 مارچ شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاو¿س میں مشاورتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے بلائی گئی پارلیمانی رہنماو¿ں کی مشاورتی کانفرنس میں شرکت کا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیرخارجہ کو جوابی خط میں اپوزیشن کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ 
اپوزیشن نے شاہ محمود قریشی کی جانب سے رہنماو¿ں کو لکھے گئے خط پر بھی اعتراض کیا۔شہباز شریف نے جوابی خط میں نیشنل ایکشن پلان پر قومی اسمبلی میں بریفنگ دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب پارلیمانی رہنماو¿ں کی بجائے تمام اراکین پارلیمنٹ کو بریفنگ دی جائے۔ خط کے متن کے مطابق نیشنل ایکشن پلان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، ن لیگ نے ملکی سیاسی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کیلئے اکٹھا کیا اور جامع پارلیمانی بحث کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے حاصل کیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی پاکستان کی پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار سے جڑی ہوئی ہے، مشترکہ اپوزیشن پالیسی سازی میں مشترکہ فیصلوں پر یقین رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماو¿ں کو خط لکھ کر مشاورتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی جس میں نیشنل ایکشن پلان پر قومی حکمت عملی طے ہونا تھی۔