حسن ابدال: عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنا میرا مشن ہے :ڈی پی او اٹک 

حسن ابدال:جرائم پیشہ عناصر کے لئے اٹک کی سرزمین تنگ کر دوں گا۔عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنا میرا مشن ہے  اٹک کو پرام ضلع  بنانے کا خواب ضرور پورا کیا جائے گا۔عوام تعاون کریں ان کی جان و مال کا تحفظ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈی پی او اٹک سید شہزاد بخاری نے ڈی سی کے ہمراہ ٹی ایم اے ہال میں لگائی گئی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کھلی کچہری میں عوام کی جانب سے مختلف شکایات سامنے لائی گئیں جن میں سب سے زیادہ شکایات محکمہ مال کے حوالے سے تھی جبکہ شہر میں عطائی ڈاکٹروں  ملاوٹ شدہ دودھ اور کم عمر رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ قبرستان پر ہونے والے قبضوں کے حوالے سے بھی عوام نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے سید شہزاد ندیم بخاری نے کہا کہ ضلع اٹک کو پرامن بنانا میرا خواب ہے جسے پورا کرنے کیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کر کے جرائم پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ سرچ آپریشنز کے دوران عوام تعاون کریں تا کہ جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کیلئے اٹک کی سر زمین تنگ کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بااثر شخص کے دباؤ میں نہیں آئے اور نہ آئندہ آئیں گے محکمہ پولیس کا ہر آفیسر اور اہلکار عوام کی جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہے اور انہیں  اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کرنی چاہیے۔ اس موقع پر ڈی سی اٹک عشرت اللہ خان نیازی نے کہا کہ ہم قانون کے مطابق کام کرتے ہیں قبرستانوں پر بڑھتے ہوئے قبضوں کی شکایات کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ گندم کٹائی کے بعد پورے ضلع میں قبرستانوں کا سروے کیا جائے گا اور قبضہ مافیا سے سرکاری اور قبرستان کی زمینوں کو واگزار کرایا جائے گا۔ انہوں نے عطائی ڈاکٹروں کے حوالے سے چیف آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اعجاز اعوان کو فوری کاروائی کرنے کے احکامات جاری کیے جن کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائیوں کے بعد علاقے کی سیاسی شخصیات سفارشی لے کر پہنچ جاتی ہیں اور ہمیں آزادی سے کام نہیں کرنے دیتے مگر اس کے باوجود ہم کسی عطائی ڈاکٹر اور انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرتے اور نہ آئندہ کریں گے۔ کھلی کچہری میں علاقے بھر سے عام عوام۔ سیاسی و سماجی شخصیات اور تمام محکموں کے افسران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔