مولانا فضل الرحمن کی اٹک کی تحصیل حضرو کے علاقہ چھچھ آمد

قائد جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی اٹک کی تحصیل حضرو کے علاقہ چھچھ آمد ، مولانا فضل الرحمن نے تقریب نکاح میں شرکت کی علاقہ چھچھ کے علاقہ حضروکے 2 نوجوانوں کے نکاح پڑھائے اور خطبہ دیا مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو حکومت کے خلاف میدان عمل میں نکلنا چاہئے،اگر ن لیگ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف باہر نہیں نکلتی تو جعلی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، جے یو آئی میدان میں ہے ۔ دس ملین مارچ کر چکی ہے، میڈیا نے ملین مارچ کے حوالہ سے کوئی خاص کوریج نہیں دی،حکومت 5 سال تو کجا پانچ منٹس بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ،اسٹیبشلمنٹ کی طاقت موجودہ حکومت کے پیچھے ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے حکمرانوں کو آگے لایا اب وہ حکومت پر بوجھ بن چکی ہے، ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے ،حکومتیں اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ پانچ ماہ میں ملک کو ڈبونے پر آ جائیں،اخلاقی شرعی سیاسی اور ہر لحاظ سے حکومت ناکام نظر آتی ہے ،فوج کا دعویٰ کہ ملک میں امن آ چکا پھر فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہتی فوجی عدالتیں جن مقاصد کے تحت عمل میں آئیں ان کی اب ضرورت نہیں رہی، فوجی عدالتوں کا عمل غیر جمہوری عمل تھا نون لیگ کے اتحادی ہونے کے باوجود ہم نے اس پر ووٹ نہیں دیئے، فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت نہیں آج بھی اس موقف پر قائم ہیں،ہمارے ملین مارچ کا کریڈٹ اسٹیبلشمنٹ لے رہی ہے،شمالی وزیرستان میں اسٹیبلشمبٹ نے ملین مارچ کو امن کی وجہ قرار دیا،موجودہ مہنگائی پر حکومت کو شرم آنی چاہئے وزیر خزانہ اپنی ناکامی تسلیم کرلیں ، حکومت تسلیم کر لے کہ ہم بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں اور ہمیں کوئی لیکر آیا ہے، میں نہیں بعض وزراء کہتے ہیں ہمیں کوئی لیکر آیا ہے،نیشنل ایکشن پلان ایک امتیازی قانون ہے،نیشنل ایکشن پلان مدارس اور مذہبی جماعتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے،نیب ایک ایسا ادارہ ہے جس کو آمرانہ قوتیں ہمیشہ سیاستدانوں کے خلاف استعمال کرتی ہیں، ایک ایسا جرم جس میں سینکڑوں لوگ شریک ہوں اور کسی ایک فرد کو نشانہ بنایا جائے تو اس کا مطلب نیب انتقامی ادارہ ہے
