موجودہ حکومت کو پانچ سال تو کیا پانچ دن نہیں رہنا چاہیے: مولانا فضل الرحمن
حضرو :موجودہ حکومت کو پانچ سال تو کیا پانچ دن نہیں رہنا چاہیے ہم نے ملین مارچ کیا جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے لیکن پاکستانی میڈیا نے نہیں دکھایا اس حکومت کو ٹائم دینا جعلی منڈیٹ کو قبول کرنے والی بات ہے در اصل اس حکومت کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی طاقت ہے اسی نے اس کو بنایا وہی اس کو قائم رکھ رہی ہے جس نے آج ملک کو ڈبو کر رکھ دیا ہے ہم دیوالیہ پن کے کنارے پر کھڑے ہیں ان خیالات کا اظہار جمیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حضرو میں مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہر لحاظ سے چاہے وہ اخلاقی ہو شرعی ہو اسلامی اور نظریاتی ہو کوئی پہلو ایسا نہیں ہے کہ جس میں یہ ملک ہمیں ڈوبتا ہوا نظر نہ آر ہا ہو فوجی عدالتوں کے حوالے سے سوال پر جواب میں کہا کہ فوج خود بھر پور دعویٰ کر رہی ہے کہ ہم نے ملک میں امن قائم کر لیا ہے ہم نے جو ٹریلن مارچ کیا اس کا بھی کریڈیٹ فوج لے رہی ہے کہ اتنا بڑا امن مارچ ہمارے قائم کردہ امن سے ہوا تو بہت زیادہ امن ہو گیا تو پھر اس کے بعد فوجی عدالتوں کا جو جواز چند سال پہلے بتایا گیا تھا وہ اب نہیں رہا اور ہم نے اقتدار میں بھی نواز شریف کے اتحادی ہوتے ہوئے بھی اس عمل پہ ووٹ نہیں کیا تھا اور آج بھی اسی موقف پر قائم ہیں نیشنل ایکشن پلان کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ امتیازی قانون ہے جو صرف مدارس کے خلاف ہے ہماری جماعت اس کا ساتھ نہیں دے رہی مہنگاہی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کو شرم آنی چاہیے اور اعتراف کر لینا چاہیے کہ ان کو حکومت کرنا نہیں آتی ۔
