بلدیاتی نظام کے بل کا مسودہ پنجاب اسمبلی۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد: بلدیاتی نظام کے بل کا مسودہ پنجاب اسمبلی میں پہنچ گیا، اجلاس میں وزیر قانون راجہ بشارت نے نئے بلدیاتی اداروں کے ایکٹ 2019ء کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جس پر جمعہ کو اجلاس میں کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی،   جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے نون لیگ کے 3 ارکان پیر اشرف رسول،عظمیٰ بخاری اور میاں عبدالرؤف کی رکنیت معطل کر دی۔ بلدیاتی بل کی رپورٹ ایوان میں پیش ہوئی تو حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے، ن لیگ نے بل کے متعدد نکات پر اعتراض کیا۔ مسلم لیگ نون کے میاں طاہر جمیل نے کورم کی نشاندہی کر دی، کورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی اسپیکر نے 5 منٹ کے لیے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی۔ اسمبلی کورم کے بار بار ٹوٹنے پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس پیر کی سہ پہر 3 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔بلدیاتی مسودہ کی منظوری کے ساتھ ہی بلدیاتی ادارے تحلیل کر دیئے جائیں گے لیکن سفر یہاں ہی ختم نہیں ہو گا کیونکہ بلدیاتی الیکشن سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے تھے اس لیے مزید قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، بلدیاتی نمائندوں کی طرف سے احتجاج کا بھی امکان ہے، نئے بلدیاتی نظام کو عدالت میں بھی اٹھایا جائے گا۔جس سے نظر آتا ہے کہ ایک سال تک یہ رسہ کشی چلتی رہے گی اور نئے بلدیاتی نظام کے بل کی منظوری کے باوجود اس پر عملدرآمد میں سال سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے ۔