فتح جنگ :ننھے حذیفہ کو مدرسہ معلم نے زیادتی کے بعد قتل کیا،ملزم گرفتار

فتح جنگ:فتح جنگ میں کچھ دن پہلے ننھے حذیفہ کی لاش کنویں سے ملی ،جس کا پوسمارٹم کروایا گیا تو موت گلا دبانے کی وجہ سے ہوئی جبکہ بچے سے زیادتی بھی میڈیکل رپورٹ میں ثابت ہوئی جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی، گزشتہ روز ڈی پی او س اٹک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او نے بتایا کہ ننھے حذیفہ کے قاتل کو پولیس نے گرفتار کر لیا،تفصیلات کے مطابق مورخہ 20/4/19 کو مدعی مقدمہ افتخار احمد ولد خدا بخش قوم اعوان سکنہ محلہ بی بی اناراں والی مسجد فتح جنگ ضلع اٹک نے تھانہ فتح جنگ آ کر بیان کیا کہ وہ برتنوں کی+ دوکان پر سیلز مین ہے اور اسکی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا حذیفہ ہے۔ آج مغرب کے وقت وہ اپنے گھر سے مسجد بی بی اناراں والی میں نماز مغرب ادا کرنے کیلئے نکلا تو اسکے پیچھے پیچھے اسکا بیٹا حذیفہ بعمر قریب 6/7 سال بھی آ رہا تھا جب وہ مسجد سینماز پڑھ کے واپس گھر آیا تو اسکی بیوی نے بتایا کہ انکابیٹا حذیفہ بھی اسکیپیچھے گیا تھا جو ابھی تک واپس نہ آیا ہے جس کی تلاش اس نیاہل محلہ کے ہمراہ اپنے محلہ میں شروع کردی۔ محلہ کے بچوں نے بتایا کہ کچھ دیر پہلے محلہ میں لگے ہوئے کنویں کے پاس حذیفہ آئسکریم بیچنے والے کے پاس کھڑا تھا۔ جب اس نے کنویں کے اوپر لگا ہوا لوہے کا ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو پانی کے کنویں میں اسکیبیٹے کے چپل تیر رہے تھے جس پر اسے شک ہو گیا تو قریب 10 بجیرات کا وقت ہو گا کہ محلہ کے کافی لوگ اکھٹے ہو گئے اور اہل محلہ نے رسی کو کنڈے لگا کر حذیفہ کی پانی میں تلاش شروع کی تو کنڈوں کے ساتھ حذیفہ کی نعش پانی سے تھوڑا اوپر آئی جس کو اس نے شناخت کر لیا اور نعش کو کنڈوں کی مدد سے باہر نکالا حذیفہ کی گردن کے دائیں طرف نشان تھا۔ اسیسر دست کسی پر کوئی شک و شبہ نہ ہے اور نہ ہی اسکی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی ہے البتہ کنویں پر لگے ہوئے ڈھکن کے بند ہونے پر حالات مشکوک ہیں۔ بعداز اں مورخہ 24/4/19 کو مذکورہ افتخار احمد نے تحریری درخواست پیش کی کہ اسکیبیٹے حذیفہ بعمر قریب 6/7 سال کی نعش محلہ بی بی اناراں والا فتح جنگ کنوا ں سے برآمد ہوئی تھی جسکا آپ نے سول ہسپتال فتح جنگ سے پوسٹمارٹم بھی کروایا تھا اس وقت میں نے اپنے بیان میں تحریر کرایا تھا کہ مجھے سر دست کسی پر کوئی شک و شبہ نہ ہے میں اب تک اپنے طور پر پتہ جوئی کرتا رہا مجھے قوی یقین ہے کہ میرے بیٹے کو کسی نامعلوم ملزم /ملزمان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ناحق قتل کر کے نعش کو پانی کے کنواں میں پھینک کر اور کنواں کا ڈھکن اوپر سے بند کر کے نعش کو چھپا کر سخت زیادتی کی ہے درخواست پیش کرتا ہوں مقدمہ درج رجسٹر کیا جا ئے۔ جس پر مقدمہ نمبر 174/19 زیر دفعہ 302/201 ت پ درج رجسٹر کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک سید شہزاد ندیم بخاری نے اس افسوس ناک اور بر بریت کے وقوعہ پر فوری نوٹس لیتے ہوئیایس ڈی پی او فتح جنگ سرکل محمد سکندر،ایس ایچ او فتح جنگ عابد منیر،انچارج آئی ٹی جہانزیب خان،ائے ایس آئی مدثر،انچارج HIU لہراسب پر مشتمل ایک ٹیم بنائی جس نے تفتیش مقدمہ کرتے ہوئیچندمشکوک اشخاص کو شامل تفتیش کیا۔ دوران تفتیش کنواں کے بالکل ساتھ واقع مدرسہ کے معلم حافظ عبدالحی ولد حیات محمد اور مدرسہ کے طلبہ کے بیان میں واضع تضادات پائے گئے۔ علاوہ ازیں جب معلم عبدالحی سے اس حوالے سے مختلف سوالات کیے گئے تو وہ واضع طور پر پریشان اور بد حواس نظر آیا جس پر اس سے بار بار اس کی مورخہ 20/4/19 کی مصروفیات کے بارے میں استفسار کیا گیا۔ اور اپنے بیانات میں تضادات کی وجہ سے وہ مشکوک ہوتا گیا۔ بلآخر مذکورہ نیدوران تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس نے 20/4/19 کو بروز ہفتہ مغرب کی نماز مسجد ہائی سکول میں پڑھائی اور اپنے موٹرسائیکل پر جب مسجد بی بی اناراں کے پاس پونچا تو وہاں پر حزیفہ ولد افتخار احمد (مقتو ل) کو مسجد کے باہر گلی کے کونے پر کھڑا دیکھا۔ بچہ کو اکیلا دیکھ کر اس کی نیت خراب ہو گئی جس نے بچہ کو ورغلا پھسلا کر اپنے ساتھ اپنے مدرسہ میں لے گیا۔ وہاں پر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس دوران بچہ نے جب چیخ و پکار کرنے کوشش کی تو اس نے بچہ کے منہ پر زبردستی ہاتھ رکھ کر بچہ کا منہ بند کر دیا۔ سانس بند ہونے کی وجہ کی بچہ کی حالت غیر ہو گئی۔ اس نے باہر دیکھا گلی میں کسی کو نہ پا کر بچے کو اٹھا کر مدرسہ سے ملحقہ کنواں کا ڈھکن اٹھا کر اس میں پھینک دیا اور ڈھکن بند کر کے مسجد میں حاضری ڈالنے کے لیے کچھ وقت کے لییمسجد بی بی اناراں گیا۔ پھر وہاں سے نکل آیا۔اور اپنے جرم کو چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیے پر سخت نادم ہے اور اس ظلم عظیم پر شاید قیامت کے دن بھی اللہ پاک اسیمعاف نہ کرے گا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک سید شہزاد ندیم بخاری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مظلوم خاندان کو انصاف پہنچائیں گے اور معصوم بچے کے ساتھ اس حیوانیت اور درندگی کا ارتقاب کرنے والے عاقبت نا اندیش ملزم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
