قاتل کو سرعام پھانسی دیکر نشان عبرت بنایا جائے: سردار احسن ملال و دیگر

اٹک :حکومت تھانہ فتح جنگ پولیس کی نا اہلی اور ہٹ دھرمی کے سبب 10 منٹ کے قلیل وقت میں حل ہونے والے مقدمہ قتل کو 4 روز میں درج کر کے وزیر اعظم عمران خان کے انتخابی منشور اور تحریک انصاف کی فوری انصاف کی فراہمی کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی ہیں ، انچارج چوکی فتح جنگ سب انسپکٹر شاہ فردوس 7 سالہ مقتول کے والد اور دیگر لواحقین کو اوے اور نازیبا کلمات سے نہ صرف دھتکارتا رہا بلکہ مقدمہ قتل کو 4 روز تک اتفاقی موت ثابت کرنے پر بضد رہا ، ڈی سی اٹک ، ڈی پی او اٹک نے 7 سالہ حذیفہ کے قتل کے 12 روز گزر جانے کے باوجود لواحقین سے تعزیت تک کرنا گوارا نہیں کیا ، ان خیالات کا اظہار ڈی پی او آفس کے سبزہ زار پر سابق امیدوار چیئرمین ضلع کونسل اٹک سردار احسن علی خان آف ملال نے 7 سالہ مقتول حذیفہ کے والد افتخار احمد ، نانا کونسلر یونین کونسل ملال ملک حبیب خان اور کونسلر بلدیہ فتح جنگ حاجی اعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 7 سالہ حذیفہ جس کے گھر کے نزیک مسجد ہے وہ نماز مغرب ادا کرنے گیا نماز ختم ہونے پر اس کی تلاش کی گئی تو تقریباً پونے 8 بجے گھر کے نزدیک کنواں میں پانی پر تیرتی چپل نظر آئی انہوں نے انچارج چوکی سٹی فتح جنگ سب انسپکٹر شاہ فردوس کو اطلاع کی تو اس نے ان کی بات سننے سے انکار کر دیا کسی سرکاری محکمہ نے بھی بچہ کی لاش کو کنواں سے نکالنے میں مدد فراہم نہیں کی اپنی مدد آپ کے تحت اہل محلہ نے اسے رسیوں اور کنڈوں کے ساتھ باہر نکالا اور پولیس کو اطلاع دی گئی تو انچارج چوکی نے انتہائی نا مناسب اور ناروا رویہ اختیار کیا بچے کی لاش رات 10 بجے سے 2 بجے تک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال فتح جنگ میں بے یارو مدد گار پڑی رہی ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کی کٹ ہونے کے باوجود حال ہی میں کنٹریکٹ سے مستقل ہونے والے اناڑی ڈاکٹر رات 12 بجے مقتول کے رشتہ داروں کو مارکیٹ میں بھیج دیا دکانیں بند ہونے کے سبب وہ میڈیکل سٹوروں کے مالکان کے گھروں کے دروازے کھٹکٹاتے رہے تاہم کٹ نہ ملی اور بعدازاں پوسٹ مارٹم کٹ ہسپتال سے ہی برآمد ہوئی پوسٹ مارٹم کا عمل رات ساڑھے 3 بجے مکمل ہوا نا تجربہ کار ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نہ تو کسی قسم کے حقائق ، شواہد اور تفصیلات درج کیں اور نہ ہی قانون کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ تحریر کی ایم ایل آر نا تجربہ کاری کی منہ بولتی تصویر ہے 4 روز تک پوسٹ مارٹم رپورٹ تحریر نہ ہونے کے سبب انچارج پولیس چوکی فتح جنگ سب انسپکٹر شاہ فردوس جن کی بد زبانی اور بد اخلاقی ضرب المثل ہے نے دیگر تھانہ آنے والے لوگوں کے ساتھ ہمارے ساتھ بھی یہی وطیرہ رکھا اوے ، تو اور تم سے مخاطب کر کے ہمارے دکھی دلوں کو مزید افسردہ کرتا رہا 4 روز بعد اپوزیشن لیڈر ضلع کونسل اٹک سردار احسن خان آف ملال نے ڈی ایس پی سرکل فتح جنگ محمد سکندر کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے قتل کی اس واردات سے یکسر لا علمی کا اظہار کیا تاہم انہوں نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر ہمارے ساتھ بے انتہا تعاون اور انتھک محنت کرتے ہوئے فوری طور پر جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے چوتھے روز تھانہ فتح جنگ میں نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ قتل درج کیا انچارج ایچ آئی یو سرکل فتح جنگ سب انسپکٹر لہراسب نے 48 گھنٹے مسلسل سوئے بغیر پیشہ ورانہ فرائ ض سر انجام دیتے ہوئے دن رات ایک کر کے ملزم عبدالحی کو گرفتار کر لیا اپوزیشن لیڈر ضلع کونسل اٹک سردار احسن خان ملال نے کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ اس قسم کی سنگین واردات پر ذاتی طور پر جا کر غم زدہ خاندان کے سروں پر دست شفقت رکھتے تھے تاہم تبدیلی کے دعویدار وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے تو کیا آنا تھا ڈی سی اٹک اور ڈی پی او اٹک نے بھی نہ تو آنے کی زحمت گوارا کی اور نہ ہی ان غم زدہ خاندان سے اظہار تعزیت کیا پریس کانفرنس سے ڈی پی او نے عجلت میں کی تاکہ مقتول حذیفہ کے والد اور دیگر شریک ہو کر پولیس کی ناقص کارکردگی کا پول نہ کھول دیں نہ ہی ان شخصیات نے ان غم زدہ افراد کی دل جوئی کی چوکی سٹی حسن ابدال کا فاصلہ مقتول کے گھر سے 200 گز سے کم ہے اور وہاں کے انچارج جن کی فرعونیت بیان سے باہر ہے نے بھی اس خاندان سے تعزیت یا ہمدردی کے دو بول بولنا اپنی شان کے خلاف تصور کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم عبدالحی کو جس نے اقبال جرم کر لیا ہے سر عام پھانسی کی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے تاکہ دوسرے معصوم بچوں پر غلط نگاہ رکھنے والے اپنے انجام پر بھی نگاہ رکھ سکیں۔
