وزیرصحت کا ڈسٹرکٹ ہسپتال اٹک کا دورہ بھی سیاسی نکلا، کھلے آسمان تلے بچے کو جنم

اٹک :ڈسٹرکٹ اسفند یار بخاری ہسپتال اٹک میں 9 ماہ کی حاملہ خاتون نے ہسپتال میں داخل کیے جانے کے باوجود چیک اپ اور بر وقت طبی امداد 12 گھنٹے بیڈ نہ ملنے پربینچ پر بیٹھی خاتون کو ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے عملہ کو ہدایت کی کہ یہ گند بینچ پر کیوں بٹھایا ہوا ہے اسے ہسپتال سے نکال کر باہر کرو اس پر خاتون کو اس کے ہمراہ آئی ہوئی خواتین گائنی وارڈ سے ملحقہ دوسری منزل کی چھت پر کھلے آسمان تلے لے آئیں جہاں خاتون نے کھلے آسمان تلے بغیر کسی طبی امداد کے بچی کو جنم دے دیا گائنی وارڈ کے عملہ کے خلاف دی جانے والی تحریری درخواست پر مقرر ہونے والی انکوائری آفیسر جو اسی گائنی وارڈ کی سینئر لیڈی ڈاکٹر ہیں نے بھی دوران انکوائری گائنی وارڈ کے عملہ کو بلائے بغیر بچی کو جنم دینے والی خاتون اور اس کے خاوند کو داد رسی کی بجائے بے عزت کر کے ہسپتال سے نکال دیا رکن قومی اسمبلی میجر طاہر صادق نے بھی 2 روز تک مسلسل ان کی کوٹھی پر حاضری دینے کے باوجود داد رسی نہ کی ان خیالات کا اظہار اٹک شہر کے محلہ جمیل ٹاﺅن کے رہائشی کرکٹ کے معروف کھلاڑی محمد الطاف ولد فتح محمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی والدہ اور بہن کی مدد سے یکم مئی کو اپنی اہلیہ کو جن کی ڈیلیوری کےلئے صبح 8 بجے ہسپتال لے کر آئے گائنی وارڈ میں موجود لیڈی ڈاکٹر اور نرس ڈیوٹی پر موجود تھیں کو متعدد بار مطلع کیا گیا کہ مریضہ کی تکلیف بڑھ رہی ہے اور اب بچے کی پیدائش کا وقت آنے کے سبب یہ ناقابل برداشت ہو گئی ہے تاہم ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر اور عملہ نے اسے معمول تصور کرتے ہوئے سنجیدگی سے نہ لیا اور مریضہ کو وارڈ میں بیڈ تک دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی 12 گھنٹے تک بچے کی پیدائش کے تکلیف دہ عمل سے گزرنے والی خاتون ہسپتال میں بیڈنہ ملنے پر بینچ پر بیٹھی رہیں اس دوران اس صورت حال میں نہ تو مذکورہ خاتون کو وارڈ میں جگہ دی گئی اور نہ ہی انہیں لیبر روم لے جایا گیا بچی کی پیدائش کا عمل آنے پر خاتون کی حالت تشویشناک ہونے پر ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ خاتون جو ڈیلیوری کےلئے آئی ہیں انہیں گند قرار دے کر عملہ سے کہا کہ انہیں یہاں سے باہر نکالو اس پر خاتون کو ان کے ہمراہ آئی ہوئی خواتین انہیں لیبر رو م کے باہر چھت پر لے گئیں اور خاتون نے وہاں کھلے آسمان تلے بغیر کسی بیڈ اور بغیر ہسپتال کے عملہ کی مدد کے چھت پر بچے کو جنم دے دیا صورتحال کی سنگینی دیکھ کر وہاں موجود عملہ نے اپنی مجرمانہ غفلت ، کوتاہی اور لاپرواہی کو چھپانے کےلئے بچی کو جنم دینے والی خاتون اور ان کے ہمراہ ان کے گھر کے دیگر افراد کو نہ صرف ڈاٹنا شروع کر دیا بلکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں ڈپٹی ایم ایس موقع پر آگئے انہوں نے اس صورت حال پر انہیں کہا کہ وہ ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اٹک کے نام تحریری درخواست دے دیں ان کی تحریر ی درخواست پر وہ مسلسل 6 روز ہسپتال کے چکر لگاتے رہے اور روزانہ ایم ایس چھٹی پر ہے وزیر اعلیٰ نے صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے ہیں اور دیگر بہانے کر کے ٹال مٹول سے کا م لیا جا تا رہا 7 مئی کو گائنی وارڈ کی سینئر لیڈی ڈاکٹر جنہیں انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا تھا جن کے سامنے وہ پیش ہوئے انکوائری آفیسر لیڈی ڈاکٹر نے غفلت کی ذمہ دار لیڈی ڈاکٹر اور دیگر عملہ کو انکوائری میں بلانے کی تکلیف بھی گوارہ نہ کی بلکہ ان کی وکیل بن کر درخواست دہندہ اور ان کی اہلیہ کو انتہائی سست اور دیگر غیر اخلاقی الفاظ سے نوازتے ہوئے بے عزت کر کے انکوائری کو کسی نتیجہ پرپہنچائے بغیر ہسپتال سے نکال دیا یکم مئی سے 7 مئی کے دوران وہ 2 مرتبہ سے اس حلقہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی میجر طاہر صادق کی کوٹھی پر وہ مسلسل 2 دن جاتے رہے اور میجر طاہر صادق نے ان کی کسی قسم کی دادرسی نہ کی اور ٹال مٹول سے کام لیتے رہے انہوں نے عمران خان کے جھوٹ کو سچ سمجھتے ہوئے مسلم لیگ ( ن ) جسے انہوں نے چوروں کی حکومت قرار دیا تھا تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور اپنی اہلیہ کے سرکاری ہسپتال کی چھت پر کھلے آسمان تلے بغیر کسی طبی امداد کے بچی کے جنم دینے ، گائنی وارڈ اور ہسپتال کے رویے منتخب رکن قومی اسمبلی میجر طاہر صادق کی ان جیسے غریب کی دادرسی نہ کرنے پر آج وہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ انہوں نے ایسی جماعت کو عوام کی دادرسی نہ کر سکے کو ووٹ کیوں دیا ان سے بہتر وہ چور تھے جو رکشہ یا گائنی وارڈ کے علاوہ بچے کی پیدائش پر نہ صرف گائنی وارڈ بلکہ پورے ہسپتال کی انتظامیہ کومعطل کر کے داردسی کےلئے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف خود زچہ و بچہ کی خیریت دریافت کرنے کےلئے ان کی دہلیز تک جایا کرتے تھے انہوں نے چیف جسٹس ، صدر ، وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ ، وزیر صحت انسانی حقو ق کی تنظیموں اور ارباب اختیار سے ڈسٹرکٹ اسفند یار ہسپتال اٹک میں کھلے آسمان تلے بچی کی پیدائش کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔