جنڈ :گورنمنٹ کالج آف کامرس میں اساتذہ نہ ذاتی بلڈنگ

جنڈ(ظفر اقبال سے) جنڈ میں قائم کالج آف کامرس تعلیمی ادارہ کے بجائے صرف ایک نمائشی مثال۔ یہ ادارہ انیس سن اٹھاسی میں قائم ہوا جو ابھی تک اپنی ذاتی بلڈنگ سے محروم ہے ۔اساتذہ کی کل سات آسامیاں ہیں جن میں سے چار خالی ہیں جن میں پرنسپل کی اہم پوسٹ بھی خالی ہے 2016میں اس ادارے میں بیچلر لیول ( بی کام ) کی کلاسز کاا جراءکیاگیا مگر کوئی اضافی تعلیمی عملہ تعینات نہیں کیا گیا ادارے میں تعینات دو شارٹ ہینڈ کے اساتذہ جب کہ ایک انچارج پرنسپل تعینات ہیں جب کہ 2015کے بعد شارٹ ہینڈ میں کسی طالب علم کو داخلہ نہیں دیا گیا ۔ادارہ میں کسی بھی مضمون کو پڑھانے کے لئے متعلقہ اساتذہ دستیاب نہیں تما م مضامین غیر متعلقہ اساتذہ پڑھا رہے ہیں ۔یہ ادارہ نام کو تو گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف کامرس کہلاتا ہے مگر اس میں اہم مضمون کامرس کا کوئی استاد موجود ہی نہیں۔قابل افسوس ہے کہ سکول کے تما م طلباءاور سٹاف ایک ہی واش روم استعمال کرتے ہیں سینٹری ورکر کی آسامی بھی خالی ہے جب کہ کلاسز کی صفائی طلباءخود کرتے ہیں ۔ پارکنگ اور سپورٹس کا سامان موجود نہ ہے جب کہ طلباءسے باقعدہ اس مد میں فنڈ لیا جاتا ہے ۔بچوں کے والدین اور علاقہ عوام کو ایڈیشنل چارج پر تعینات پرنسپل سے بھی کافی شکایات ہیں جن میں بچوں پر بے جا جرمانہ اور نامناسب رویہ اہم ہیں اس سلسلے میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز اٹک ،اور ڈائریکوٹریٹ آف کالجز راولپنڈی کو باقاعدہ تحریری درخواستیں بھی ارسال کی گئی ہیں ۔