ٹی ایچ کیوحضرو میں پوسٹمارٹم میں تاخیر معمول بن گیا

اٹک :تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حضرو میں پوسٹ مارٹم کرانا پولیس اور لواحقین کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا کئی کئی گھنٹے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے پڑی رہتی ہے جلالیہ میں قتل ہونیوالی عورت کا پوسٹ مارٹم 7گھنٹوں بعد شروع ہوا جس کی وجہ سے لواحقین اور قاتل کے اہلخانہ کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا حضرو پولیس کی بروقت کاروائی کی وجہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حضرو میں جہاں دیگر عوام کو صحت کی سہولیات میسر نہیں وہاں ہی اگر علاقے میں کوئی عورت یا مرد قتل ہو جائے تو اس کا پوسٹ مارٹم کروانا بھی پولیس اور لواحقین کیلئے سردرد بن جاتا ہے کئی گھنٹے لاش مردہ خانے میں پڑی رہتی ہے جبکہ مردہ خانہ میں صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اتوار کے روز جلالیہ میں قتل ہونیوالی خاتون کو پوسٹ مارٹم کیلئے جب ہسپتال لایا گیا تو قاتل کے رشتے دار بھی ہسپتال آ پہنچے پوسٹ مارٹم کیلئے آئے ہوئی حضرو پولیس کی موجودگی میں دونوں پارٹیوں آپس میں لڑ پڑیں جس پر پولیس نے بروقت کاروائی کر کے ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہونے دیا ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کیلئے لائی جانیوالی باڈیز کئی گھنٹوں تک مردہ خانے میں پڑی رہتی ہے جبکہ ڈاکٹروں کو بھی بڑی تک ودو کے بعد پوسٹ مارٹم کیلئے لایا جاتا ہے جس پر عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے اصلاح واحوال کا مطالبہ کیا ہے ۔
