جنڈ:ملک سہیل کمڑیال کا قومی اسمبلی میں حلقے کے مسائل پر اظہار خیال 

جنڈ:ضلع اٹک سے حلقہ این اے56 سے مسلم لیگ (ن) کے ممبر قومی اسمبلی ملک سہیل خان کمڑیال نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک حکومتی ٹیم کی11 ماہ کی کارکردگی کا تعلق ہے وہ تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر لکھی جائے گی اور جہاں تک وزیراعظم کے بلند و بانگ دعوے اور قول و فعل میں جو تضاد ہے اس کے بارے میں مثالیں تو کافی ہیں لیکن ان کو صرف ایک شعر سے منصوب کروں گا، ’’اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں  موہ لیتا ہے۔۔ گفتار کا یہ غازی تو بنا ، کردار کا غازی بن نہ سکا۔حلقہ این اے56 کے اہم مسئلہ کی طرف ڈپٹی سپیکر کی توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1913ء میں ہمارے حلقے سے پہلی دفعہ گیس نکالی گئی لیکن 115 سال گزرنے کے باوجود 80 سے 90 فیصد علاقہ گیس سے محروم ہے، تحصیل فتح جنگ، تحصیل پنڈی گھیب اور تحصیل جنڈ بالخصوص جہاں سے گیس نکل کر کوہاٹ اور میانوالی تک تو پہنچائی جا رہی ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جنڈ تحصیل کی وہ تحصیل ہے جس میں سوائے جنڈ شہر کے تمام دیہاتوں کو گیس سے محروم رکھا گیا ہے،تحصیل جنڈ کے ایک گائوں ڈھوک لوہاراں میں گیس کی سمبلی (مرکزی سپلائی پوائنٹ)  اس گائوں کے اندر لگی ہوئی ہے جہاں سے کوہاٹ کو گیس فراہم کی جا رہی ہے لیکن اس دیہات کو گیس نہیں دی گئی، آئین کے مطابق بھی جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کی 5 کلومیٹر تک کی آبادیوں کو گیس ترجیحی بنیادوں پر ملنی چاہیے، میرا مطالبہ ہے کہ آئل فیلڈز کی قریبی آبادیوں کو گیس فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ گزشتہ حکومت میں تقریباً 15 دیہاتوں کو گیس فراہم کی گئی جس کا کام 98 فیصد مکمل ہے لیکن باقی کام پچھلے 11 ماہ  سے مکمل نہیں ہو رہا، میرا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ ہے کہ اس کام کو بھی تکمیل تک پہنچایا جائے۔ ہمارے حلقے سے ہر کمپنی گیس ،تیل و دیگر معدنی دولت نکال رہی ہے  ان سب کمپنیوں کی طرف سے ان علاقوں کیلئے ایک ویلفیئر فنڈ مختص کیا جاتا ہے وہ ویلفیئر فنڈ نہ ہونے کے برابر ہے، اربوں روپے کمپنیاں وہاں سے کما رہی ہیں لیکن فنڈ اتنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ ان علاقوں کو بھیک دی جا رہی ہے، اور اس فنڈ کو استعمال کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی کا چیئرمین اس علاقے کا ممبر قومی اسمبلی ہوتا ہے، لیکن گزشتہ 11 ماہ سے وہ فنڈ استعمال نہیں ہونے دیا جا رہا کیونکہ اس علاقے  کا ایم این اے مسلم لیگ (ن) کا ہے، ہمارا ڈپٹی اسپیکر سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ وہ فنڈ ریلیز کیا جائے۔