کشمیر ایشو پر حکومت کو عملی اقدامات اٹھانے ہونگے: شیخ آفتاب احمد

اٹک(صدیق فخر سے) مرکزی رہنما مسلم لیگ ن سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اس لئے مذاکرات ہی کسی بھی مسئلے کا بہترین حل ہوتے ہیں لیکن صرف زبانی جمع خرچ ،ریلیوں اور جلسوں سے بھی کشمیریوں کی مدد ممکن نہیں اس کے لئے حکومت کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کشمیر کے مسئلے پر اپنی کمزور پالیسی پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ دنیا بھر کے تمام بڑے ممالک کو اس اہم ترین مسئلے میں مداخلت کے لئے آمادہ کرنا پڑے گا۔ جنگ و جدل سے دونوں اطراف میں تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا بالآخر مذاکرات سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے جس کی واضح مثالیں 65, 71 اور 99 میں کارگل کی جنگوں کی صورت میں موجود ہیں۔ ہم اگر کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دلوا سکتے تو ہم کم از کم ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے مضبوط آواز تو بلند کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ستر سالوں سے کشمیریوں نے پاکستان کا پرچم بلند کیا ہوا ہے آج اس پرچم کی لاج رکھتے ہوئے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ کشمیر میں ہونے والا ظلم و ستم اور قتل عام کا گھناؤنا کھیل بند ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے عمران خان نیازی نے مہنگائی اور بیرون قرضوں کو بنیاد بنا کر بہت شور مچایا لیکن آج اپنی حکومت کے ایک سال پورا پر بھی انہیں مہنگائی کی چکی میں پستی قوم کی تکالیف محسوس نہیں ہوئی۔ ایک سال سے چور ڈاکو کی فرضی کہانیاں سنا سنا کر لوگوں کو طفل تسلیاں دی ہیں اب قوم کو ان چوروں و ڈاکوں سے برآمد کیا ہوا مال بھی دیکھا دیں۔ بائیس سال کی جدوجہد کے بعد آپ کو حکومت ملی ہے تو پھر افسوس کا مقام ہے کہ آپ اتنے سالوں میں ایک وزیر خزانہ چیئرمین ایف بی آر بھی نہیں تیار کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے مختلف ہربے استعمال کرتی ہے لیکن ہم آپ کو قوم سے کئے گئے وعدے یاد دلاتے رہیں گے۔
