Wed
17
Jun
2026

اس مرض میں شرح اموات 4 فیصد سے بھی کم ہے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اٹک ڈاکٹر سعید اختر نے پنجاب گروپ آف کالجزز کے زیر اہتمام ڈینگی بخار سے بچائو ، علاج و احتیاط کے موضوع پر منعقدہ سیمنار میں لیکچر کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں تیز بخار کے ساتھ بیان کردہ تمام علامات ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ دوسرے مرحلہ میں نظامِ دوران خون متاثرہوتا ہے تیسرے اور چوتھے مرحلہ میں آنتوں و مسوڑوں سے خون آنا شروع ہو جاتا ہے جس سے موت واقع ہو سکتی ہے تاہم احتیاط و بروقت علاج کے ذریعے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے ۔
اس بیماری کا مچھر طلوع و غروب آفتاب کے وقت صاف پانی پر بیٹھتا ہے اپنے گھر رہائش و اردگرد ماحول پر نظر رکھیں ڈینگی مچھر کی ممکنہ پرورش گاہوں پر مچھر مار سپرے کریں اور مرض کی علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔
