بسال،بریار کا نوجوان قتل، باقیات جنگل سے برآمد 

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جنڈ اور ڈی ایچ کیو اٹک کا پوسٹمارٹم سے انکارپر لواحقین احتجاج کر رہے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر اٹک نے موقع پر لواحقین کے مطالبات سن رہے ہیں

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جنڈ اور ڈی ایچ کیو اٹک کا پوسٹمارٹم سے انکار، لواحقین کا احتجاج ،ڈپٹی کمشنر اٹک نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا

اٹک ،دوستی کی آڑ میں ضلع کونسل اٹک کے ریٹائرڈ مالی کے 22 سالہ جواں سال بیٹے کو 2 ماہ قبل پہاڑی کی چوٹی پر قتل کر کے لاش پھینک دی مقتول کے جسم کا سارا گوشت جانور کھا گئے اور 2 ماہ بعد قاتل نے فون کر کے مقتول کے والد کو کہا کہ فلاں پہاڑی کی چوٹی سے اپنے بیٹے کی لاش کی باقیات لے آئو ۔

 

پہاڑی پر باقیات اٹھانے پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میڈیکل افسر نے لاش کی باقیات کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک بھجوا دیا جہاں کئی گھنٹے تک لواحقین ذلیل و خوار ہوتے رہے اور انہوں نے احتجاج کیا اطلاع پر ڈپٹی کمشنر اٹک عشرت اللہ خان نیازی ذاتی طور پر ہسپتال آئے اور عملہ کی سرزنش کرتے ہوئے اٹک میں محکمہ صحت کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیا بعدازاں پوسٹ مارٹم کر کے لاش ورثاء کے حوالہ کر دی گئی پولیس تھانہ بسال نے مقدمہ قتل درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔

 تفصیلات کے مطابق صفدر خان ولد محمد خان ساکن بریار نے تھانہ بسال میں ایف آئی آر درج کرائی ہے کہ وہ ضلع کونسل اٹک سے بطور مالی ریٹائرڈ ہے اس کے 7 بیٹے جن میں سے 2 شادی شدہ ہیں 22 سالہ واصف خان جو میٹرک کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا اور من مرضی کا مالک تھا اکثر اپنے دوست خاور ولد سخاوت ساکن جبی کسراں جو بد قماش انسان ہے کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا تھا اور کئی ماہ تک رابطہ نہ کرتا تھا عید الاضحی سے سے ایک ماہ قبل اپنے رشتہ دار عدنان کی دکان کپڑا اٹک شہر سے کام چھوڑ کر میرے دوست نوید ولد سرور سکنہ ڈھوک کچھ داخلی مٹھیال جو لکڑی کا ٹھیکیدار ہے کے پاس کام کیلئے چلا گیا عید الاضحی کے دوسرے روز اپنے چچا محمد اکرام ولد اللہ داد ساکن مرزا کے پاس آیا اور رات گزارنے کے بعد اٹک شہر اپنے دوست خاور عرف خاوری کے ساتھ اکھٹے ہو کر قماش بینی کیلئے ہجڑوں کے ڈیروں ، میلوں وغیرہ اور وقت گزاری کیلئے کہیں چلا گیا اگست کے وسط میں میری اس سے ملاقات سپر اقبال ہوٹل کے قریب ہوئی میں نے اسے کہا کہ تم گھر کیوں نہیں آتے اس نے کہا کہ گھر آ کر کیا کرنا ہے کام وغیرہ کی تلاش کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا 27 اگست کو میری بیوی اور چھوٹے بچے گھر پر موجود تھے کے دن میں اس نے اپنے موبائل سے کال کی اور کہا میں اپنے دوست خاور عرف خاوری ایک کے سلسلہ میں اٹک کچہری آئے ہوئے ہیں اگر آپ نزدیک ہیں تو مل لیں میں کہا کہ تم گھر آ جاءو پاکستان میں مزدوری وغیرہ نہیں پاسپورٹ بنوا کر میں تمہیں باہر بھجوا دوں گا یکم ستمبر کا کہہ کر وہ گھر نہیں آیا جس پر میں نے 4 ستمبر کو بیٹے سے فون پر رابطہ کیلئے کوشش کی تو فون بند تھا میں نے عزیز و اقارب کے علاوہ گرد و نواح سے پتہ کیا تاہم اس کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا 23 ستمبر کو میں نے تھانہ صدر اٹک میں رپٹ گمشدگی اور اشتہار شور و غوغا جاری کرایا موبائل ڈیٹا کی روشنی میں خاور عرف خاوری سے معلوم کیا تو اس نے کہا کہ تم میرے پیچھے کیوں لگے ہو اپنے بیٹے کو تلاش کر رہے ہو چوری ڈکیتی کرنی اور پھر پوچھتے ہو کہ کدھر ہے جاءو جھلار ریلوے اسٹیشن کے قریب پہلی سرنگ کے ساتھ والی پہاڑی پر پڑا ہے اٹھا لو اس کی ریکارڈنگ میرے پاس موجود ہے میں نے تھانہ صدر اٹک پولیس کے ہمراہ رات کی تاریکی میں تلاش کیا اور رات 11 بجے ہم پہاڑ سے واپس آ گئے اور 25 اکتوبر کو دوبارہ ہم سب پہاڑی پر تلاش کر رہے تھے کہ سرنگ نمبر 5 پر ریلوے لائن کی جانب گھنے جنگلات جس میں کہو ، پھلاہ ، سنتھہ و گھاس پھوس میں بکھری ہوئی انسانی ہڈیاں ، بال ، ایک جوڑا بوٹ کے علاوہ پھٹے ہوئے کپڑوں کے ٹکرے ، پھٹی ہوئی جیب کی قمیص میں میرے بیٹے کے شناختی کارڈ ، فوٹو ، شناختی کارڈ کی کاپی ، نقد رقم 3 ہزار 330 روپے ، وزٹنگ کارڈ وغیرہ موجود تھے میں نے اپنے بیٹے کو تلاش کر لیا مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ میرے بیٹے کو خاور عرف خاوری نے اپنے دوست سعید اختر ولد کرم خان اعوان ساکن بھٹیوٹ وغیرہ سے مل کر نامعلوم وجوہات کی بناء پر نا حق قتل کر کے سخت زیادتی کی ہے ۔

پولیس کو اطلاع دی گئی تو پولیس نے پی ایف ایس اے ایویڈینس کولیکشن یونٹ راولپنڈی کے عملہ کو بھی بلا لیا جنہوں نے فرانزک رپورٹ بنانے کیلئے جدید آلات کی مدد سے باقیات کو محفوظ کر لیا اور پولیس مقتول کے قریبی عزیز و اقارب کو لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جنڈ پہنچی تو وہاں موجود میڈیکل افسر نے ان سے انتہائی ناروا سلوک کیا اور جب انہوں نے ایم ایس سے بات کرنی چاہی اور ان کے گھر کا دروازہ کھٹکانہ چاہا تو میڈیکل افسر نے انہیں دھکے مارے اور کہا کہ وہ ہی ایم ایس ہے اور اس نے پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک ریفر کر دیا صبح 4 بجے جنڈ سے یہ اٹک پہنچے تو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک کی ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹروں نے بھی ان سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا اور صبح 10 بجے تک لاش ملنے کے 27 گھنٹے گزر جانے کے باوجود پوسٹ مارٹم کیلئے انکار کرتے رہے اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک کی انتظامیہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کردیا موَقف اپنایا کہ یہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جنڈ کا کیس ہے اس کا پوسٹ مارٹم وہیں سے ہو گا جس پر مقتول کے ورثاء نے مجبور ہو کر لاش کو روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جنڈ کے خلاف نعرے بازی کی اور ایم ایس جنڈ کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر عشرت اللہ خان نیازی موقع پر پہنچے اور حقیقت کا پتہ لگنے کے بعد ڈی سی اٹک نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ پوسٹ مارٹم اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں کیا جائے مقتول کے ورثاء سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اس دوران تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی میجر طاہر صادق نے بھی ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ان کا پوسٹ مارٹم کریں اور لواحقین کے رابطہ کرنے پر اٹک کے سیاستدانوں میں ریسکیو 1122 کا لقب پانے والے سابق امیدوار پنجاب اسمبلی ملک حمید اکبر خان آف شیں باغ بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر اٹک اور ہسپتال انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کیے ڈپٹی کمشنر اٹک کی آمد کا سن کر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اعجاز اعوان بھی پہنچ گئے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی مقتول کو نماز جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔