پی ٹی آئی اٹک کی کارکردگی گروپ بندی تک محدود، عوامی مسائل میں اضافہ

ترنول سے جنڈ اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب روڈ بھی پی ٹی آئی کی آپس کی چپقلش کی نظر
وفاق اور پنجاب نے این اے56 سے نظریں چرا لیں،کیا این اے56 ووٹ لینے تک ملک کا حصہ؟
ڈپٹی کمشنر اٹک و دیگر ضلعی افسران کی بھی تمام تر توجہ این اے55 پر مرکوز،56 سےپی ٹی آئی کے ووٹر بھی نظر انداز
اسلام آباد(تجزیہ: صدیق فخر ) حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف اٹک کی کارکردگی گروپ بندی تک محدود، عوامی مسائل میں اضافہ، ترنول سے جنڈ اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب روڈ بھی پی ٹی آئی کی آپس کی چپقلش کی نظر، وفاق اور پنجاب نے این اے56 سے نظریں چرا لیں،کیا این اے56 ووٹ لینے تک ملک کا حصہ؟،ڈپٹی کمشنر اٹک و دیگر ضلعی افسران کی بھی تمام تر توجہ این اے55 پر مرکوز،56 سےپی ٹی آئی کے ووٹر بھی نظر انداز
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ملک بھر کی طرح ضلع اٹک میں بھی گروپ بندی کا شکار ہے، ہر مرکزی شخصیت نے اپنا الگ سے دھڑا بنایا ہوا ہے، وفاق اور پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترنول سے جنڈ اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب روڈ بھی سیاسی چپقلش کی نظر ہو گئی، وفاق اور پنجاب میں وزارتوں پر براجمان شخصیات کی طرف سے دونوں سڑکوں کو بنانے کے اعلانات صرف عوام کو سبز باغ دکھانے تک ہی محدود نظر آئے۔ کریڈٹ کے چکر میں دونوں سڑکیں تاحال حکومت کی توجہ حاصل نہ کر سکیں۔
اپوزیشن کی طرف سے اسمبلی کے فلور پر آواز بھی بلند کی گئی اور دونوں سڑکوں کے بارے میں بھرپور کوشش کی گئی لیکن حکومتی اراکین کی آپس کی چقپلش اور کریڈٹ کی وجہ سے دونوں سڑکوں کے بارے تاحال کوئی اعلانات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ وفاق اور پنجاب دونوں نے حلقہ این اے56 سے ایسے نظریں چرائی ہوئی ہیں جیسے این اے56 پاکستان کا حصہ ہی نہ ہو۔
این اے 56 سے تحریک انصاف کی پارٹی کو لاکھوں ووٹ ملے لیکن اس حلقے میں ترقیاتی کاموں پر پابندی لگا کر پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اٹک و ضلعی افسران بھی تمام تر توجہ این اے 55 پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔علاو ہ ازیں نئے پاکستان اورانصاف کی دعویدار پارٹی بھی اپوزیشن اراکین کو فنڈ جاری نہیں کر رہی کہ جس سے اپوزیشن کے اراکین اپنے اپنے حلقوں میں عوام کے مسائل حل کر سکیں۔اگر یہ کہا جائےتو بے جا نہیں ہو گا کہ اپوزیشن کے حلقے سے تعلق رکھنے والی عوام کے مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں نہ ہی وہ حلقہ حکومت کا حصہ ہوتا ہے۔
