حکومت برطرف اور اسمبلی تحلیل کی جا سکتی ہیں

شہریوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت اور ان کی غیر قانونی نگرانی کو سپریم کورٹ غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دے چکی ہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے موقف اپنایا ہے کہ ججوں کی جاسوسی کی بنیاد پر حکومت کو برطرف کیا جاسکتا ہے جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمار کس دیئے ہیں کہ شہریوں کی جاسوسی اور ان کی ذاتی زندگی(پرائیویسی)میں مداخلت اہم معاملہ ہے اس ضمن میں قانون سازی اشد ضروری ہے۔ منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال اٹھا یا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اس مرحلے پر روکا جاسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے مطابق درخواست گزار کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کے لئے کافی مواد موجود تھا ، اب جبکہ درخواست گزار کو شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد انکوائری جاری ہے تو اس مرحلے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روکا جاسکتا ہے؟ وکیل منیر اے ملک نے موقف اپنایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اضافی مواد پر شو کاز نوٹس جاری کیا، کونسل اس مواد پر کارروائی کی مجاز ہے جو ریفرنس میں بھیجا گیا تھا ،سپلیمنٹری مواد کو نہیں لیا جاسکتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل اپنے طور پر چیزوں کو شامل کرنے کی مجاز ہے؟ جس کے جواب میں وکیل نے کہا کہ کونسل انکوائری کی مجاز ہے اپنے طور پر چیزوں کو شامل نہیں کرسکتی، لیکن ریفرنس بھیجنے کے بعد بھی تصدیق کا عمل جاری رہا اور نئی چیزیں کونسل میں پیش کی گئیں ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب ایک دفعہ ریفرنس چلا جائے تو صدر مملکت کی طرف سے تصدیق کا عمل ختم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا ریفرنس آئین کے تحت دائر ہوتا ہے اور ذیلی قانون آئینی شق کو غیر موثر نہیں کرسکتا۔ فاضل وکیل نے جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کی اہلخانہ کی جاسوسی کا نکتہ اٹھایا اور بے نظیر بھٹو کیس کے فیصلے کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قرار دے چکی ہے کہ انٹلی جنس اداروں کے ذریعے ججوں کی جاسوسی کرنا ،حکومت برطرف اور اسمبلی تحلیل کرنے کے لئے کافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت اور ان کی غیر قانونی نگرانی کو سپریم کورٹ غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دے چکی ہے ۔ منیر اے ملک نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس اور افتخار چوہدری کیس کے فیصلوں میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا اور اگر عدلیہ کے معاملات میں مداخلت ہوگی تو عدلیہ کی آزادی کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا، ہر ادارہ دوسرے کی خود مختاری کو یقینی بنائے گا۔ منیر اے ملک نے کہا کہ ججوں کی جاسوسی کے الزام میں اسمبلیوں کی تحلیل کے باجود ججوں کی جاسوسی کا سلسلہ رک نہیں سکا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر عام لوگوں کا اعتماد توڑنے کے لئے ان کی جاسوسی کی جاتی ہے تاکہ وہ کھڑے ہوکر جرات نہ دکھا سکے ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ انٹلی جنس اداروں سے شہریوں کی جاسوسی کے لئے کوئی قانون ہے جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس میں سپریم کورٹ نے اصول قانون وضع کیا ہے کہ اگر قومی سلامتی کے پیش نظر کسی شہری کی جاسوسی ضروری ہے تو اس کے لئے کمیشن بنایا جائے گا اور کمیشن جائزہ لے کر اجازت دے گا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اگر قانون نہیں تو پھر جیو فنسنگ کرکے سیلولر فون کا ڈیٹا کیسے حاصل کیا جاتا ہے؟ منیر اے ملک نے کہا کہ نیب قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص مشکوک ہے تو متعلقہ ہائی کورٹ سے پیشگی اجازت لے کر چیئر مین نیب تحریری طور پر اس شخص کی نگرانی کرنے کی منظوری دے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ نگرانی کی حدود و قیود کیا ہونگی،کیا بیڈ روم میں بھی گھسا جاسکتا ہے جس کے جواب میں وکیل نے کہا کہ نگرانی آئین کے آرٹیکل 14کے تابع ہوگی، نگرانی کے دوران انسانی عظمت اور وقار کا خیال رکھا جائے گا۔ جسٹس بندیال نے کہا کہ پرائیوسی میں مداخلت اہم معاملہ ہے جس پر منیر اے ملک نے کہا کہ ذاتی زندگی میں مداخلت قابل معافی عمل نہیں یہ عدالت اس معاملے میں خود انکوائری کرکے ملوث افراد کو سزا دے سکتی ہے، جج اور ان کی اہلخانہ کی جاسوسی کرنا،ا ی میل ہیک کرنا ، نقل و حرکت پر نظر ر کھنا ایک عام آدمی کا کام نہیں ہوسکتا ۔ عدالت کا وقت ختم ہونے پر سماعت آج دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی گئی ۔
