کشمیر کے مسئلے پر حکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ ہے،جماعت اسلامی اٹک

جنرل سیکرٹری جماعتِ اسلامی شمالی پنجاب اقبال خان اور امیر جماعتِ اسلامی ضلع اٹک سردار امجد علی خان کی مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس
اٹک:کشمیر کے مسئلے پر حکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ ہے 22دسمبر کو لاکھوں مرد و خواتین اسلام آباد کے ڈی چوک میں حکمرانوں کو ان کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے احتجاج کریں گے ان خیالات کا اظہارجنرل سیکرٹری جماعتِ اسلامی شمالی پنجاب اقبال خان اور امیر جماعتِ اسلامی ضلع اٹک سردار امجد علی خان نے مقامی ہوٹل میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر نائب امیر ضلع اٹک مولانا جابر علی خان، جنرل سیکرٹری حافظ بلال،ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ حماد احمد، امیرتحصیل اٹک خالد محمود، امیر اٹک شہر میاں جنید، سیکرٹری اطلاعات زون پی پی ون لیاقت عمر، سینیئر صحافی شیخ جاوید اقبال ،شیخ ظہور الٰہی، عمران حسین کاظمی، ایاز خان، ندیم حیدر، عمران زاہد، فرحان اسلم، حافظ عبدالحمید، سمیت فعال صحافیوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پرجنرل سیکرٹری جماعتِ اسلامی شمالی پنجاب اقبال خان نے کہا کہ حکومت کو کم از کم نائب وزیرِ خارجہ برائے کشمیربنانا چاہیے تھا اور ہر پاکستانی سفارتخانے میں کشمیر ڈیسک کا قیام عمل میں لانا چاہیے تھا لیکن حکومت کی مجرمانہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت نے بزدلی کا انتخاب کر لیا ہے۔
لائن آف کنترول پر 400کلومیٹر باڑھ لگا کر حکومت نے دونوں جانب کے کشمیریوں کو تقسیم کر دیا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت جلاوطن قبرصی حکومت کی طرز پر بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کرتی اور آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کو تمام متحدہ کشمیر کا وزیرِ اعظم قرار دے دیتی امیر جماعتِ اسلامی ضلع اٹک سردار امجد علی خان نے کہا کہ22دسمبر کو اٹک بھر سے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے اور اس سلسلے میں مرد و خواتین کو موبلائز کرنے اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جو پورے ضلع کے لوگوں کو احتجاجی مارچ میں شرکت کی دعوت دیں گے بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت اس لیے تبدیل کی ہے تا کہ وہ غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کر سکے اور کشمیریوں پر اتنا ظلم و ستم روا رکھا جائے کہ وہ نقل مکانی کر جائیں کرفیو کو 4ماہ سے زائد کا عرصہ گذر کیا ہے اور سوشل میڈیا بھوک اور پیاس سے نڈھال کشمیریوں کی اندوہناک تصویر پیش کر رہا ہے آج مقبوضہ کشمیر دنیا کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کیا جا چکا ہے حکومت کو لائن آف کنٹرول ختم کر کے اس پار کے کشمیریوں کو اس پار جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کی اجازت دینی چاہیے
