پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اٹک کا ڈاکٹر محمد اسلم مروت کی زیر صدارت اجلاس

اجلاس میں صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر سید صاحبزادہ مسعود السعید نے خصوصی شرکت کی
اٹک :پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اٹک کا اجلاس زیر صدارت صدر کرنل ڈاکٹر محمد اسلم خان مروت پی ایم اے ہائوس اٹک منعقد ہوا جس میں صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر سید صاحبزادہ مسعود السعید کی صدارت میں ہونے والے اجلاس جس میں اسلام آباد سمیت 36 اضلاع سے ضلعی صدور اور پنجاب کے عہدیداروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی تھی کے متفقہ مطالبات کی پی ایم اے اٹک نے بھی نہ صرف توثیق کی بلکہ ان تمام مطالبات پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ بھی کیا اجلاس میں سابق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ملک عبادت خان ، ڈاکٹر میاں محمد اشفاق ، سرجن ڈاکٹر سید وجاہت حسین ، ڈاکٹر عطاء اللہ ، لیڈی ڈاکٹر عفت خٹک ، لیڈی ڈاکٹر ثوبیہ ، ڈاکٹر نعیم خٹک ، ڈاکٹر محمد حیات ، ڈاکٹر محمد عمر ، ڈاکٹر نعمان اعجاز سمیت دیگر ڈاکٹرز نے شرکت کی اجلاس میں اٹک میں سابق ایم ایس ڈاکٹر کاشف حسین اور دیگر ڈاکٹرز اور ڈاکٹر فرخ کے خلاف پولیس کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کو ڈاکٹروں کے کے با وقار پیشے کی تذلیل اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے اخراج کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلعی سطح پر ممبران و قومی و صوبائی اسمبلی ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سمیت دیگر با اختیار افسران سے مطالبہ کیا گیا کہ اٹک میں ڈاکٹروں اور وکلاء کے درمیان کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے قبل خوشگوار ماحول میں بات چیت کے ذریعے مذاکرات کر کے کسی بھی ممکنہ واقعہ سے بچنے کے سلسلہ میں لاءحہ عمل طے کیا جا سکتا ہے تاہم اٹک میں وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیان کوئی تنازعہ موجود نہیں تاہم پی ایم اے کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی ہدایت پر سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے باہر پی آئی سی لاہور واقعہ کے خلاف احتجاجی بینرز آویزاں کیے جائیں گے۔
لاہور کا واقعہ وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری ، آئی جی پنجاب اور دیگر پولیس افسران کی مجرمانہ غفلت ، نا اہلی ، ناقص ایڈمنسٹریشن کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے سبب دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہسائی اور اس کا تشخص بری طرح مجروع ہوا جس کا ازالہ کسی بھی طرح ممکن نہیں پی ایم اے پنجاب کے مطالبات میں کے مطابق پی آئی سی پر حملہ میں ملوث تمام لوگوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں ایک مضبوط جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں آئی ایس آئی ، آئی بی اور پی این اے کے نمائندگان ہوں اور یہ مقدمہ خصوصی عدالت میں چلایا جائے اس سارے سانحہ کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر قانون پنجاب ، محکمہ داخلہ پنجاب کے ذمہ داران پر عائد ہوتی ہے ہم ان تمام ذمہ داران کے استعفیٰ ، ڈی آئی آپریشن لاہور اور سی سی پی او لاہور کو فی الفور معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء ریلی کو اجازت دی گئی اور ان کے کچہری سے پی آئی سی تک کے 3 کلو میٹر کے سفر میں ان کی مدد کی گئی جب وکلاء نے پی آئی سی کا گیٹ توڑا تو اس وقت پولیس خاموش تماشائی تھی ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کی سکیورٹی کا بل جو عرصہ دراز سے وزیر قانون پنجاب کی ذاتی عناد کی وجہ سے التوا کا شکار ہے اسے فی الفور آرڈیننس کے ذریعے نافذ العمل کیا جائے اور ایک ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے ایکٹ منظور کرایا جائے پی آئی سی میں جو 100 گاڑیاں توڑی گئیں ، اربوں روپے کی مشینری تباہ کی گئی اس کا نقصان حملہ کرنے والے وکلاء سے پورا کیا جائے اور جب تک یہ گرفتار شدگان پیسے نہ دیں انہیں جیل رکھا جائے ہسپتالوں میں وی آئی پی کلچر کا مکمل خاتمہ ، پنجاب حکومت وکلاء کو علاج کیلئے دی گئی ترجیح مراعات کا نوٹیفکیشن فی الفور واپس لے ، مستقبل میں وکلاء گردی کی روک تھام کیلئے بار اور بینچ کا گٹھ جوڑ ختم کیا جائے ، اس گٹھ جوڑ سے نظام انصاف پر سے عام آدمی کا یقین اٹھ چکا ہے وکلاء کی پریکٹس کو مانیٹر کرنے کیلئے ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرح خود مختار ادارہ بنایا جائے ، وفاقی حکومت کی سطح پر 11 دسمبر کو ہر سال پاکستان کی تاریخ کے سیاہ دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا جائے ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سانحہ پی آئی سی لاہور پر 16 دسمبر کو ملک بھر میں یوم سیاہ منائے گی ۔
