چائلڈ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائیگا ، اے ڈی سی آراٹک

بھٹہ خشت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ، عبدالماجد
اٹک :بھٹہ خشت اور دیگر مقامات پر چائلڈ لیبر کے نام پر مختلف سرکاری اہلکار وہاں موجود بچوں کے ہاتھوں میں اینٹیں پکڑا کر تصاویر بنانے کے بعد بھٹہ مالکان کو بلیک میل کرتے ہیں ان مقامات پر گزٹیڈ آفیسر کے علاوہ کسی ادنیٰ اہلکار یا پولیس ملازم کو چیکنگ کا کوئی اختیار نہیں اور اس قسم کی غیر قانونی حرکات کرنے والوں کے خلاف نہ صرف محکمانہ کاروائی بلکہ ان کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے جائیں گے چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے حوالہ سے حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا بھٹہ خشت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی ان خیالات کا اظہار اے ڈی سی آر چوہدری عبدالماجد نے ڈی سی آفس کے کانفرنس روم میں ڈسٹرکٹ ویلیجنس کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر سعید حیدر خان ، ڈی او لیبر عدنان سلیم خان ، لیبر انسپکٹر ناصر مسعود ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر محمد اکرم ، صدر فیضیاب فاءونڈیشن محمد اعظم خان ، ڈی ای او لیٹریسی میمونہ انجم ، اے ڈی ڈی پی اکرام اللہ ، ایس ایس او سوشل سکیورٹی عبدالستار ، لیبر آفیسر ٹیکسلا کارٹن ملز لمیٹڈ محمد عظیم ہاشمی ، صدر بھٹہ خشت ایسوسی ایشن احسان علی ، سوشل ویلفیئر آفیسر محمد ذیشان ، صدر بھٹہ خشت ایسوسی ایشن فتح جنگ چوہدری غضنفر ، چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان ، سرپرست اعلیٰ سینٹرل یونین آف جنرنلسٹس پاکستان الحاج پرویز خان اور دیگر موجود تھے اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر سعید حیدر خان اور ڈی او لیبر عدنان سلیم خان نے بتایا کہ محکمہ لیبر نے 39 مقامات پر چیکنگ کی چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی پر 8 ایف آئی آر کا اندراج ، 8 مقدمات کے عدالتوں سے فیصلے ، 40 ہزار روپے جرمانہ وصول کر کے حکومتی خزانے میں جمع کرانے کے علاوہ لیبر قوانین کے تحت 856 چالان کیے گئے اجلاس میں سوشل سیکورٹی کے حوالہ سے کارڈ جاری کرنے اور ان کی رفتار کو تیز کرنے پر زور دیا گیا اجلاس میں بھٹہ خشت اور دیگر مقامات پر ماحول کی آلودگی کو کم کرنے کیلئے مختلف تجاویز کے علاوہ اینٹوں کی نئی ٹیکنالوجی زگ زیگ بھی لگانے پر زور دیا گیا تاکہ اینٹوں کے بھٹوں کی چمنیوں سے اٹھنے والے دھویں کا سدباب کیا جا سکے حکومت نے کچھ عرصہ قبل ایک ہزار روپے بھٹہ خشت پر کام کرنے والے کم عمر بچوں کو تعلیم کیلئے دیئے تھے جو اب فنڈز ختم ہونے کے سبب بند کر دیئے گئے ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بھٹہ خشت سکولوں میں تعینات لیڈز ٹیچرز کیلئے واش روم بنائے جائیں اس موقع پر بتایا گیا کہ اٹک میں بھٹہ خشت پر خدمت کارڈ کے تحت 333 گھرانے رجسٹرڈ تھے جن میں 671 بچے تھے جن کو ایک ہزار روپے فی کس ماہانہ دیا جا رہا تھا جس کے سبب یہ بچے تعلیم کی طرف راغب ہو گئے تھے تاہم حکومت نے یہ پروجیکٹ جنوری 2018 ء سے ختم کر دیا ہے اس موقع پر بھٹہ خشت مالکان نے کہا کہ 2 سال سے بھٹہ خشت کا کاروبار خسارے کا شکار ہے اور حکومت کے آئے روز نت نئے قوانین کے سبب یہ صنعت زبوں حالی کا شکار ہے حکومت جدید زیگ زیگ پالیسی پر بھٹہ خشت پر لاگو کرنے کی خواہشمند ہے جس پر فی بھٹہ 30 لاکھ روپے لاگت اور اس کیلئے ماہرین کی ضرورت ہے اور یہ ماہرین پاکستان میں دستیاب نہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر سعید حیدر خان نے بتایا کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے 2 ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں جبکہ بانڈڈ لیبر کا اٹک میں کوئی کیس نہیں ہے بھٹہ خشت پر 252 بچوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے اس موقع پر ایس ایس او سوشل سکیورٹی عبدالستار نے بتایا کہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے محنت کش کو سوشل سکیورٹی میں 90 دن پورا ہونے پر رجسٹرڈ کیا جاتا ہے تاہم حادثہ کی صورت میں اس کو فوراً رجسٹرڈ کر کے اس کی مدد کی جاتی ہے اس پر ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ چوہدری جمال نے ہدایت کی کہ اس سلسلہ میں وہ تحریری دستاویز پیش کریں کہ اس قانون کا جائزہ لیا جا سکے انہوں نے ہدایت کی کہ پیشگی رقم کے حوالہ سے حکومت کے قوانین پر سختی سے عملدآمد کرایا جائے محکموں اور اداروں کے درمیان باہمی رابطہ مزید فروغ دے کر لیبر قوانین کے نفاذ اور اس کی خلاف ورزیوں پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے انہوں نے مناسب معلومات فراہم نہ کرنے پر ایس ایس او سوشل سکیورٹی کو آئندہ اجلاس میں مکمل معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وارننگ دی اجلاس میں جبری مشقت چائلڈ لیبر بھٹہ خشت پر سوشل سکیورٹی کارڈ کی رجسٹریشن ، کم از کم تنخواہوں ، بھٹہ خشت پر جمع داری سسٹم پر تفصیلی بات چیت کی گئی اجلاس میں بتایا گیا کہ محنت کش جن میں چوکیدار ، ماشکی ، لیبر کی کم از کم تنخواہ 17 ہزار 500 روپے ہو گی اسی طرح نیم ہنر مند جس میں جلائی والا ، باری والا ، کیری والا ، مٹی والا ، صفائی والا ، کوئلہ والا ، ٹیوب ویل ڈرائیور کی تنخواہ 18 ہزار 488 روپے ، ہنر مند میں کار ڈرائیور ، خانساماں کی تنخواہ 19 ہزار 308 روپے ، اعلیٰ ہنر مند میں مستری ، ٹرک ڈرائیور ، ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور کی تنخواہ 20 ہزار 773 روپے ، جز وقتی ورکر جس میں منشی شامل ہے کی تنخواہ 18 ہزار 806 روپے ، اینٹ بنانے والے کو فی ہزار 1295 ، اسپیشل اینٹ بنانے والے کو فی ہزار 1530 روپے ، نکاشی والا کو فی ہزار اینٹ 327 روپے ، گدا گاڑی اور ریڑے والے کو فی ہزار اینٹ421 روپے کی ادائیگی کی جائے گی اور یہ کم از کم معاوضہ اور اجرت ہے اس سے کم ادا کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی چائلڈ لیبر سے مراد ایسا کام ہے جو بچوں کو ان کے بچپن اور عزت نفس سے محروم کر دے اور ان کی سماجی ، اخلاقی ، جسمانی اور ذہنی نشونما کیلئے نقصان دہ ہو بچوں کو سکول جانے کے مواقع سے محروم رکھے اہم بین الاقوامی کنونشن نے اس سلسلہ میں قوانین وضع کر رکھے ہیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 11-3 کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو فیکٹریوں ، دکانوں اور دوسرے خطرناک پیشوں میں ملازمت دینا ممنوع ہے۔
