چیئرمین سینیٹ کی ایم کیوایم رہنماؤں سے ملاقات؛ کابینہ میں رہ کر مسائل کے حل پر زور

کراچی: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ کابینہ میں رہ کر ہی اپنے عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کراچی کے علاقے بہادر آباد میں قائم ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پہنچے جہاں انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان ،فیصل سبزواری اورامین الحق شامل تھے۔

بہادرآباد آمد پر چیئرمین سینیٹ اور فیصل سبزواری کے درمیان کراچی اور اسلام آباد کے موسم کا ذکر ہوا ۔ فیصل سبزواری نے چیئرمین سینیٹ کو کہا کہ کراچی میں آپ کو گرمی محسوس ہو رہی ہوگی، کراچی کی نسبت اسلام آباد میں زیادہ ٹھنڈ ہے، ہمیں تو کوئٹہ کے توسط سے ہی ٹھنڈ ملتی ہے، جس پر صادق سنجرانی نے کہا کہ کراچی کا موسم تو زبردست ہے۔

’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘

چیئرمین سینیٹ سے رسمی گفتگو کے آغاز پر خالد مقبول صدیقی نے ہلکے پھلکے انداز میں شکوہ کرتے ہوئے مصرع کہا ’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘، جس پر صادق سنجرانی نے کہا کہ میں پہلے بھی آیا تھا لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ ہم چاہتے ہیں آپ ہمارے ساتھ رہیں۔ جس پر فیصل سبزواری نے کہا کہ ہماری بھی یہی خواہش ہے۔

صادق سنجرانی نے کہا کہ آپ کی کابینہ سے علیحدگی کی خبر سنی تو دلی افسوس ہوا، جس پر خالد مقبول نے کہا کہ جن عوامی مسائل کے لیے حکومت سے اتحاد کیا وہ حل ہوجائیں، وزارتیں تو آنی جانی ہیں۔

چیئرمین سینیٹ سے یقین دہانی کرائی کہ آپ کے مطالبات پر حکومتی کمیٹی کام کررہی ہے جلد معاملات حل ہوں گے۔ کنوینر ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہماری کمیٹی تو شروع سے ایک ہی ہے البتہ حکومتی کمیٹی کئی بار تبدیل ہوچکی ہے۔

’ہر پاکستانی برابر کا وفادار‘

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا بہادرآباد آنے پر شکریہ اداکرتا ہوں، جس طرح صادق سنجرانی نے سینیٹ کو چلایا یہ ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے، ایم کیو ایم نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے مسائل پر آواز اٹھائی، ہر پاکستانی کو برابر کا وفادار اور حق دار سمجھا جائے، سندھ کے عوام کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

’ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں گے‘

اس موقع پر صادق سنجرانی نے کہا کہ میرا ایم کیو ایم کی جانب سے گرم جوشی سے استقبال کیا گیا، شکریہ ادا کرنے آیا کہ مجھے سینیٹ میں بلوچستان کے عوام کی حمایت کی، سیاسی معاملات پر زیادہ بات نہیں کرسکتا، پاکستان کی بہتری کے لئے کسی بھی پارٹی کے پاس جانے کو تیار ہوں، ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں گے، کوشش ہوگی کہ چھوٹے مسائل کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی خدمت کریں۔ پاکستان کی بہتری کے لیے خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس آنا چاہیے۔ کابینہ میں بیٹھ کر زیادہ مؤثر انداز میں اپنے لوگوں کے مسائل حل کرسکیں گے۔